آئی برکس سربراہ اجلاس میں 500 سے زائد سرمایہ کار ہوں گے شریک
نئی دہلی، 05 ستمبر (ہ س)۔ قومی راجدھانی نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہونے والے پہلے آئی برکس سربراہ اجلاس 2026 میں 500 سے زائد ادارہ جاتی سرمایہ کار، پنشن فنڈز اور فیملی آفسز شرکت کریں گے۔ منتظمین نے ہفتہ کو بتایا کہ ہندوستان کی برکس صدارت
آئی برکس سربراہ اجلاس میں 500 سے زائد سرمایہ کار ہوں گے شریک


نئی دہلی، 05 ستمبر (ہ س)۔ قومی راجدھانی نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہونے والے پہلے آئی برکس سربراہ اجلاس 2026 میں 500 سے زائد ادارہ جاتی سرمایہ کار، پنشن فنڈز اور فیملی آفسز شرکت کریں گے۔ منتظمین نے ہفتہ کو بتایا کہ ہندوستان کی برکس صدارت کے تحت نئی دہلی میں ایک ٹریلین امریکی ڈالر (1000 ارب ڈالر) کے گلوبل سوورین کیپٹل سمٹ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس آئی برکس سربراہ اجلاس میں 500 سے زائد ادارہ جاتی سرمایہ کار، پنشن فنڈز اور خاندانی اثاثوں کا انتظام کرنے والے ادارے شرکت کریں گے۔

قومی راجدھانی نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو دو روزہ 18ویں برکس سربراہ کانفرنس منعقد ہوگی۔ اس کا مقصد برکس کے 21 رکن اور شراکت دار ممالک میں بنیادی ڈھانچے، توانائی اور ڈیجیٹل صلاحیت سے متعلق قابلِ سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے خودمختار سرمائے اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے۔’سوورین ویلتھ فنڈ انسٹی ٹیوٹ‘ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب برکس کی معیشتیں بدلتے ہوئے تجارتی حالات، امریکہ کی ٹیرف پالیسی اور ڈالر میں لین دین کی بڑھتی لاگت جیسے چیلنجز کے درمیان اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لا رہی ہیں۔ایس ڈبلیو ایف آئی کے مطابق کانفرنس میں ہندوستان کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی)اور برازیل کے پی آئی ایکس جیسے قومی فوری ادائیگی کے نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑنے کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں (سی بی ڈی سی)کے درمیان باہمی مطابقت کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ برکس دنیا کی اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹوں اور ترقی پذیر ممالک کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ ابتدا میں اس میں پانچ ممالک شامل تھے، لیکن توسیع کے بعد اب اس کے 11 رکن ممالک ہیں۔ اس تنظیم کا نام ابتدائی چار ممالک برازیل، روس، ہندوستان اور چین کے انگریزی ناموں کے پہلے حروف سے بنا تھا اور اسے پہلے ’برک‘ کہا جاتا تھا۔ 2011 میں جنوبی افریقہ کے شامل ہونے کے بعد اس کا نام ’برکس‘ ہوگیا۔برکس کی بنیاد 2006 میں رکھی گئی تھی اور اس کا پہلا سربراہ اجلاس 2009 میں منعقد ہوا تھا۔ تنظیم کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارت اور عالمی سیاسی و اقتصادی نظام میں اصلاحات کو فروغ دینا ہے۔اس وقت برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، سعودی عرب اور انڈونیشیا برکس کے رکن ممالک ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande