

نئی دہلی، 05ستمبر (ہ س)۔کم عمری کی شادی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہندوستان کی آواز کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ اقوام متحدہ نے 27 نومبر کو ”بچوں ، کم عمری اور جبری شادی کے خاتمے کا عالمی دن“ قرار دیا ہے۔ یہ تاریخ ہندوستان کے لیے خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ 27 نومبر 2024 کو ہی ہندوستان نے ”بال ویواہ مکت بھارت“مہم کا آغاز کیا تھا۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن (جے آر سی ) کے بانی بھوون ریبھو نے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک وقف بین الاقوامی دن کا اعلان کئے جانے کی پہل کی تھی۔ مارچ 2026 میں، اقوام متحدہ (یو این) میں اپنے خطاب کے دوران کئی عالمی رہنماو¿ں کی موجودگی میں بھوون ریبھو نے ایک بار پھر کم عمری کی شادی کے خلاف بین الاقوامی دن کا اعلان کرنے کے لیے ایک قرارداد لانے پر زور دیا۔ اس وقت افریقی ملک سیرا لیون کی خاتون اول ڈاکٹر فاطمہ مادا بیو بھی موجود تھیں،جنہوں نے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد سیرالیون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس کی حمایت بھارت سمیت 67 ممالک نے کی اور 27 نومبر کوکم عمری کی شادی(چائلڈ میرج) کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ نے 4 ستمبر کو قرارداد منطور کردی۔ اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرنے کے دوران سیرا لیون کی خاتون اول ڈاکٹر فاطمہ مادا بیو نے یواین ہال میںجس رائٹس فار چلڈرن کا خاص طور پر ذکر بھی کیا۔
جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی بھون ریبھو سول سوسائٹی کی تنظیموں کے واحد نمائندے تھے جو قرارداد کی منظوری کے وقت اقوام متحدہ کے وفد کے ساتھ موجود تھے۔ اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ”آجہندوستان بچوں کے تحفظ میں عالمی رہنما کے طور پراپنی شناخت قائم کر رہا ہے۔ ’چائلڈ میرج فری انڈیا‘ مہم کا آغاز سب سے پہلے بچوں اور معاشرے نے کیا اور بعد میں اسے حکومت کے تعاون سے بڑے پیمانے پر آگے بڑھایا۔ 27 نومبر2024 کو 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے بچوں کی شادی کے خلاف ایک ساتھ مل کر عہد کیا تھا۔ آج اس مہم کو ایک بین الاقوامی دن کے طور پر تسلیم کئے گئے ایک بین الاقوامی دن کی شکل لے چکا ہے ۔ یہ ہر ہندوستانی کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے۔
بھون ریبھو نے کہا کہ میں ان بچوں، کمیونٹی رہنماو¿ں، مذہبی رہنماوں اور خاص طور پر ان تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جن کی سخت محنت اور عزم نے آج اس دن کو ممکن بنایا۔ میں وزیر اعظم مودی کی قیادت والی حکومت ہند اور خواتین و بچوں کی ترقی کی وزیر، محترمہ ان ّپورنا دیوی کو ان کی فیصلہ کن قیادت اور عزم کے لئے خاص طورپر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے اور ہمارا کام ابھی شروع ہوا ہے۔“
انہوں نے کہا،”آج اس فیصلہ کن موڑ کی علامت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کم عمری کی شادی جیسے جرم کا خاتمہ اب یقینی اور جلد ہونے والا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں 2030 تک کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن قیادت فراہم کریں اور ہر بچے کی تعلیم، تحفظ اور ترقی کو یقینی بنائیں تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کا ادراک کر سکیں۔“ انہوں نے مزید کہا، ”میں سیرا لیون کی خاتون اول کا شکر گزار ہوں کہ ان کی قیادت نے اس مسئلے کو مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ میں ان 67 ممالک کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہماری قرارداد کی حمایت کی۔“
اس مہم کا اثر حال ہی میں جاری کیے گئے قومی اعداد و شمار میںکم عمری کی شادیوں کی شرح میں کمی پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-5 (2019 تا2021) کے مطابق ملک میں 23.3 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی گئی تھی، جب کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے-6 (2023 تا 2024) میں یہ تعداد کم ہو کر 20.1 فیصد رہ گئی ہے۔ اس دوران حکومت ہند نے 2026 تک کم عمری کی شادی کی شرح کو 10 فیصد تک کم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی دونوں سطحوں پر مسلسل کوششوں کی بدولت، یہ توقع ہے کہ بھارت میں کم عمری کی شادی کی شرح 2026 تک 15 فیصد سے نیچے آ جائے گی۔ 2030 تک کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کا عالمی عزم پائیدار ترقی کا ہدف 5(صنفی برابری)کے ہدف 5.3کے مطابق ہے۔ اس میںبچوں کی شادی، کم عمری کی شادی اور جبری شادی جیسی تمام نقصان دہ رسومات کو ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
ہندوستان نے اب کم عمری کی شادی کے خلاف اپنی مہم کو اپنی سرحدوں سے باہر پھیلانا شروع کر دیا ہے۔جسٹ رائٹس فار چلڈرن کی کوششوں سے ’بال ویواہ مکت بھارت ‘ کی طرز پر دسمبر 2024 میں ’بال ویواہ مکت نیپال ‘مہم کا آغاز ہو۔ دیکھتے دیکھتے یہ مہم 99 سے زیادہ ممالک تک پہنچ چکی ہے، جہاں 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے اپنے ممالک میں کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے۔ جے آر سی نے دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان ”چائلڈ میرج فری ورلڈ“ کے لیے 100 روزہ خصوصی مہم کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد 100 ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک لاکھ اسکولوں تک پہنچنا تھا۔ اس مہم کے تجربات اور تجاویز کو اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورم کے ساتھ شیئر کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں کم عمری کی شادی کے خلاف مضبوط اور مربوط کارروائی کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
واضح ہو کہ جے آر سی بچوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیموں کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ یہ اپنی چائلڈ میرج فری ورلڈ مہم کے تحت قانون، احتساب اور اجتماعی کارروائی کے ذریعے کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کے لیے قیادت کر رہا ہے۔ بھارت میں جے آر سی اپنے شراکت دار اداروں کے ساتھ 782 اضلاع میں حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے برادریوں، اسکولوں، پنچایتوں، خواتین، مذہبی پیشواو¿ں، پولیس، سیاسی نمائندوں اور حساس و کمزور طبقات کو اس مہم سے جوڑنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اس نیٹ ورک نے سیاسی، سماجی اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر لوگوں کو متحد کیا ہے۔ گاو¿ں کی سطح پر بیداری مہموں اور اجتماعی حلف سے لے کر کم عمری کی شادی روکنے کے لیے براہِ راست اقدامات تک، یہ نیٹ ورک مختلف سطحوں پر سرگرم ہے۔
جے آر سی کے شراکت دار اداروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں 5.5 لاکھ سے زیادہ کم عمری کی شادیوں کو روکا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب حکومت، سول سوسائٹی اور مقامی برادریاں مل کر کام کرتے ہیں، تو کم عمری کی شادی کو روکا جا سکتا ہے اور بالآخر اسے مکمل طور پر ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد