چھتیس گڑھ کے جھیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں این آئی اے عدالت نے تمام 10 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا
جگدل پور، 05 ستمبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے ضلع و سیشن کورٹ جگدل پور میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج اجے سنگھ راجپوت نے تقریباً 13 سال پرانے جھیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں ہفتہ کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔طویل عرصے سے
چھتیس گڑھ کے جھیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں این آئی اے عدالت نے تمام 10 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا


جگدل پور، 05 ستمبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے ضلع و سیشن کورٹ جگدل پور میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج اجے سنگھ راجپوت نے تقریباً 13 سال پرانے جھیرم گھاٹی قتل عام معاملے میں ہفتہ کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔طویل عرصے سے اس معاملے کے فیصلے کا انتظار کر رہے متاثرہ خاندانوں کے لیے اسے ایک اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 101 گواہوں کے بیانات عدالت میں درج کرائے گئے۔ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں سینئر وکیل دنیش پنگراہی نے پیروی کی۔

جھیرم گھاٹی قتل عام کے معاملے میں استغاثہ نے مجموعی طور پر 11 ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ ان میں سے ایک اہم ملزم کی مقدمے کی سماعت کے دوران ہی موت ہوگئی۔ اس کے بعد باقی 10 ملزمان کے خلاف سماعت جاری رہی۔ این آئی اے نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ تقریباً 13 سال بعد 5 ستمبر کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے باقی تمام 10 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا۔

قصوروار قرار دیے گئے ملزمان میں پرمیلا موڈیم، چیتو لیکام عرف منا، سُمترا، پونیم موڈیم، مُکا مانڈوی، کوسا کاواسی عرف کوسارام، آیت مرکام، مڑکامی دیوا، جوگ مڑکامی اور بنجمی سینا عرف چمرو عرف دینگا مہادیو شامل ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ 25 مئی 2013 کو سکما سے واپس آنے والے کانگریس کے ’پریورتن یاترا‘ قافلے کو دربھہ علاقے کی جھیرم گھاٹی میں نکسلیوں نے گھات لگا کر منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں سمیت مجموعی طور پر 32 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے میں سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا، سابق قائد حزب اختلاف مہندر کرما، ریاستی کانگریس کے اس وقت کے صدر نند کمار پٹیل اور ان کے بیٹے دنیش پٹیل سمیت کئی اہم رہنماؤں کی جان گئی تھی۔ اس واقعے نے پورے چھتیس گڑھ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ 25 مئی 2013 کو ہونے والے اس حملے کو نکسلیوں کی جانب سے کیے گئے سب سے بڑے سیاسی حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande