اے ایم یو فیکلٹی ممبر نے سرطان سے متعلق تحقیق پیش کی
علی گڑھ, 30 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،وگیان بھون، نئی دہلی میں منعقد ہ تین روزہ بین الاقوامی کانگریس برائے نینو میڈیسن 2026 کی شریک میزبان تھی، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کینسر نینو میڈیسن کنسورٹیم کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر محمد اظہ
اے ایم یو فیکلٹی ممبر نے سرطان سے متعلق تحقیق پیش کی


علی گڑھ, 30 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،وگیان بھون، نئی دہلی میں منعقد ہ تین روزہ بین الاقوامی کانگریس برائے نینو میڈیسن 2026 کی شریک میزبان تھی، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کینسر نینو میڈیسن کنسورٹیم کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر محمد اظہر عزیز نے ٹیومر کو دبانے والے ایک جِین کے افعال کو بحال کرنے کے لیے نینو میڈیسن کے استعمال سے متعلق اپنی تحقیق پیش کی۔وہ کانگریس کی قومی مشاورتی کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

پروگرام میں ہندوستان اور بیرونِ ملک سے سائنس دانوں، معالجین، محققین اور نوجوان سائنس دانوں نے شرکت کی۔

نوبل انعام یافتہ پروفیسر راجر کورن برگ کی صدارت میں منعقد ہونے والی اس کانگریس کی میزبانی دہلی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف نینو میڈیکل سائنسز نے کی۔ اس میں میڈیسن میں نینو ٹکنالوجی کے ابھرتے ہوئے استعمالات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

پروفیسر عزیز کی پیشکش میں سرطان کی تحقیق کے ایک ابھرتے ہوئے شعبے کو اجاگر کیا گیا، جس میں سرطان سے وابستہ سالماتی بے قاعدگیوں سے نمٹنے کے لیے نینو ٹکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کی تحقیق میں نینو ٹکنالوجی، کینسر بایولوجی، سالماتی طب اور دقیق سرطان شناسی کو یکجا کیا گیا ہے، جو نئی طبی حکمت عملیوں کی تیاری میں انٹر ڈسپلینری طریقہ کار کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

کانگریس میں سائنسی اور مشاورتی دونوں حیثیتوں سے پروفیسر عزیز کی وابستگی نے اے ایم یو میں جاری کینسر نینو میڈیسن کے کام کو قومی اور بین الاقوامی سطح کے وسیع تر تحقیقی فورم سے جوڑنے کا موقع فراہم کیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر عزیز کے قائم کردہ کینسر نینو میڈیسن کنسورٹیم میں مختلف شعبوں کے محققین اور معالجین باہمی اشتراک سے سرطان کی تشخیص، ہدفی علاج اور دقیق طب کے شعبوں میں تحقیق کرتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا انٹر ڈسپلینری ٹکنالوجی سنٹر بھی نینو ٹکنالوجی اور بایو میڈیکل سائنسز پر کام کر رہا ہے۔ پروفیسر عزیز نے اس بات پر زور دیا کہ نینو ٹکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کو حیاتیاتی اور طبی استعمالات میں منتقل کرنے کے لیے انٹر ڈسپلینری اشتراک ناگزیر ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande