
علی گڑھ, 30 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کی تاریخ کے اعلان اور طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کو لے کر طلبہ کا دھرنا بدھ کے روز دسویں دن بھی جاری رہا۔ وہیں ان مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد کی بھوک ہڑتال کو بھی دس روز مکمل ہوگئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ مسلسل احتجاج کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے ابھی تک ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور شروع نہیں کیا ہے۔
بدھ کے روز اے ایم یو کے سابق طلبہ لیڈر حمزہ مسعود دھرنے پر پہنچے اور احتجاج کر رہے طلبہ سے ملاقات کرکے ان کے مطالبات کی حمایت کی۔ حمزہ مسعود، رکن پارلیمنٹ اور اے ایم یو کورٹ کے رکن عمران مسعود کے بھتیجے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
حمزہ مسعود نے کہا، ’’یہ سر سید کا ادارہ ہے، آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر نہیں۔‘‘ انہوں نے معطل طالب علم یاسر فہد کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طالب علم کو مجرم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یاسر فہد کے معاملے میں بھی انصاف کے ساتھ کارروائی کی جائے۔
انہوں نے اے ایم یو کی زمین اور کیمپس کی سڑکوں سے متعلق میونسپل کارپوریشن کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع کا بھی ذکر کیا۔ حمزہ مسعود نے کہا کہ اس معاملے میں رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کے لیٹر پیڈ پر تحریری شکایت دی جائے گی اور متعلقہ حکام کے سامنے معاملہ اٹھایا جائے گا۔
دوسری جانب طلبہ کے جاری احتجاج کے درمیان بدھ کو اے ایم یو انتظامیہ کی جانب سے ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو)پروفیسر اطہر انصاری، کنٹرولر امتحانات پروفیسر مجیب اللہ زبیری اور ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی سمیت دیگر افسران بھی دھرنے پر پہنچے۔ افسران نے احتجاج کر رہے طلبہ سے بات چیت کی اور ان کے مطالبات جاننے کی کوشش کی۔
انتظامیہ کے افسران اور طلبہ کے درمیان کافی دیر تک گفتگو ہوئی، تاہم بات چیت فی الحال کسی حتمی یا ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ طلبہ اپنی بنیادی مانگ پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک طلبہ یونین انتخابات کے سلسلے میں واضح پیش رفت نہیں ہوتی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
طلبہ کی جانب سے بنیادی طور پر اے ایم یو اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے، انتخابی عمل شروع کرنے اور معطل طالب علم یاسر فہد کی معطلی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اب اس میں ایک مطالبہ مزید جڑ گیا ہے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروکٹر پروفیسر محمد نوید خاں اور انکی ٹیم کا استعفیٰ ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ طلبہ یونین انتخابات کی مانگ کو لے کر طلبہ گزشتہ دس روز سے دھرنے پر بیٹھے ہیں، جبکہ یاسر فہد بھی گزشتہ دس روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اب انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کیا قدم اٹھاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ