
علی گڑھ, 30 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی نے شعبہ کے کانفرنس ہال میں بی اے عربی اور ایم اے عربی ، سالِ اول کے طلبہ کے لیے انڈکشن و استقبالیہ پروگرام منعقد کیا، جس کی صدارت پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کی، جبکہ سابق ڈین، فیکلٹی آف سائنس، پروفیسر قاضی مظہر علی مہمانِ خصوصی تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد محسن خان نے ابلاغ، فکری نشوونما اور بیداری میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خصوصاً عربی زبان کا ذکر کرتے ہوئے اس کی عالمگیر حیثیت اور مالا مال علمی ورثے پر روشنی ڈالی اور پیشہ ورانہ ترجمے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی واضح کیا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر قاضی مظہر علی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی ہمہ جہت ترقی کے لیے یونیورسٹی کے علمی ماحول، ثقافتی ورثے اور روایات سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے طلبہ کو زبان اور ادبی مطالعات کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹکنالوجیز بالخصوص مصنوعی ذہانت کا تعمیری استعمال کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
شعبہ عربی کے چیئرمین پروفیسر محمد فیضان بیگ نے مہمانوں اور طلبہ کا خیرمقدم کیا اور شعبے کی علمی و ادبی روایات کو اجاگر کیا۔
شعبہ کے سینئر اساتذہ پروفیسر محمد سمیع اختر، پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی اور پروفیسر تسنیم کوثر قریشی نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ عربی زبان و ادب میں مہارت پیدا کریں اور شعبے کی لائبریری، کمپیوٹر لیبارٹری اور دیگر علمی وسائل سے مؤثر استفادہ کریں۔
پروفیسر محمد محسن خان اور دیگر مہمانوں نے شعبے کی ادبی انجمن ‘‘النادی العربی’’ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے سالانہ عربی رسالے ‘‘الیقظہ’’ کی رونمائی کی۔
ایم اے، سال آخر کے طلبہ نبا وامق اور محمد فیض جمیل نے اپنے تجربات بیان کیے اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام میں طلبہ، ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ نے شرکت کی۔ ریسرچ اسکالر ابو حمزہ فلاحی نے نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ ڈاکٹر عرفات ظفر نے اظہارِ تشکر کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ