
نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ اینڈ ٹو اینڈ آئی ٹی انفراسٹرکچر، آئی ٹی مینیجڈ سروسز اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی آرمی انفوٹیک لمیٹڈ کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزوری کے ساتھ شروعات کی، جس سے اس کے آئی پی او سرمایہ کار مایوس ہوئے۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے حصص 375 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای پر اس کی لسٹنگ 1.642 فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ 368.85 روپے کی سطح پر ہوئی، جبکہ این ایس ای پر اس کی لسٹنگ بغیر کسی تبدیلی کے 375 روپے کی سطح پر ہوئی۔
کمزور لسٹنگ کے بعد فروخت کا دباؤ شروع ہوگیا، جس سے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مزید جھٹکا لگا۔ مسلسل فروخت کے باعث یہ حصص گر کر 295.10 روپے کی لوئر سرکٹ سطح تک پہنچ گئے۔ تاہم بعد میں معمولی خریداری ہونے پر صورتحال میں کچھ بہتری آئی۔ مارکیٹ میں پورے دن کی خرید و فروخت کے بعد یہ حصص 295.35 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔ اس طرح پہلے دن کے کاروبار میں کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص 79.65 روپے یعنی 21.24 فیصد کا نقصان ہوا۔
اس کمپنی کا 300 کروڑ روپے کا آئی پی او 23 سے 25 ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھولا گیا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اوسط ردِعمل ملا، جس کے باعث یہ مجموعی طور پر 2.62 گنا سبسکرائب ہوا۔ اس میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 3.20 گنا (اینکر سرمایہ کاروں کو چھوڑ کر) سبسکرائب ہوا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے مختص حصے میں 2.24 گنا سبسکرپشن حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 2.65 گنا سبسکرائب ہوا۔
اس آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے کل 80 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کمپنی نئے پروجیکٹ کے کام کو وسعت دینے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے، پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کی ادائیگی اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے کرے گی۔
آرمی انفوٹیک کی مالی صورتحال
آرمی انفوٹیک کی مالی صورتحال کی بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی (ایس ای بی آئی) کے پاس جمع کرائے گئے ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (آرایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق کمپنی کی مالی حالت میں اتار چڑھاؤ رہا ہے۔
مالی سال 2023تا2024 میں کمپنی کو 50.13 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں کم ہو کر 41.67 کروڑ روپے رہ گیا۔ تاہم گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 45.47 کروڑ روپے ہوگیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی