یو پی آئی کے معاملے پر ملک بھر کے کاروباری رہنماؤں کے وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات
نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (کیٹ) کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال کی قیادت میں سینئر کاروباری رہنماؤں کے ایک وفد نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سے ملاقات کی۔ کیٹ نے 2 ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی ل
یو پی آئی کے معاملے پر ملک بھر کے کاروباری رہنماؤں کے وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات


نئی دہلی، 30 ستمبر (ہ س)۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (کیٹ) کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال کی قیادت میں سینئر کاروباری رہنماؤں کے ایک وفد نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سے ملاقات کی۔ کیٹ نے 2 ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر مجوزہ 0.40 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) فیس کے معاملے پر مثبت یقین دہانی ملنے کے بعد 2 اکتوبر 2026 کو مجوزہ ’’نو یو پی آئی ڈے‘‘ کی اپیل واپس لے لی ہے۔

پروین کھنڈیلوال نے بدھ کو میڈیا کو معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ساتھ ہوئی مثبت اور تعمیری بات چیت اور کاروباری تنظیموں کی جانب سے اٹھائی گئی تشویش پر مناسب غور کیے جانے کی یقین دہانی ملنے کے بعد آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس فیڈریشن (اے آئی سی پی ڈی ایف) اور آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن (اے آئی ایم آر اے) نے 2 اکتوبر 2026 کو مجوزہ ’’نو یو پی آئی ڈے‘‘ کی اپیل واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کھنڈیلوال نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں کے تقریباً 20 سینئر کاروباری رہنماؤں کے ایک وفد نے آج نئی دہلی واقع کرتویہ بھون میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن سے ملاقات کرکے 2 ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر مجوزہ 0.40 فیصد ایم ڈی آر کے سلسلے میں کاروباری برادری کی تشویش سے انہیں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری تنظیموں نے وزیر خزانہ سے مثبت یقین دہانی ملنے کے بعد 2 اکتوبر کو مجوزہ ’’نو یو پی آئی ڈے‘‘ کے اپنے ملک گیر احتجاج اور اپیل کو واپس لے لیا ہے۔ کھنڈیلوال نے کہا کہ وزیر خزانہ نے وفد کی باتوں کو سنجیدگی اور صبر کے ساتھ سنا اور یقین دلایا کہ حکومت ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔

کیٹ کے جنرل سکریٹری نے بتایا کہ کاروباری وفد نے اس معاملے پر کاروباری تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے اور مثبت نقطہ نظر اپنانے کے لیے وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے ڈیجیٹل انڈیا مہم اور یو پی آئی کی بے مثال کامیابی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی آئی آج عالمی سطح پر ڈیجیٹل ادائیگی کا ایک کامیاب اور قابل تقلید ماڈل بن چکا ہے۔

کھنڈیلوال نے کہا کہ کاروباری تنظیموں کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگی کی مخالفت کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اس سے متعلق پالیسیاں متوازن، جامع اور صارفین و تاجروں دونوں کے مفاد میں ہوں۔ وفد نے اعتماد ظاہر کیا کہ حکومت اور کاروباری تنظیموں کے درمیان مسلسل بات چیت کے ذریعے ایسا عملی اور پائیدار حل نکالا جائے گا، جو ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے کروڑوں تاجروں اور ایم ایس ایم ای اداروں کے مفادات کا بھی تحفظ کرے گا۔

رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اس وفد میں کیٹ کے قومی صدر بی. سی. بھرتیا، آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس فیڈریشن (اے آئی سی پی ڈی ایف) کے صدر دھیر یاشیل پاٹل، آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن (اے آئی ایم آر اے) کے چیئرمین کیلاش لاکھیا نی اور آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ اسمتھ فیڈریشن کے صدر پنکج اروڑہ سمیت مختلف کاروباری شعبوں کی نمائندگی کرنے والے اہم کاروباری رہنما شامل تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande