کمزور طلبہ کے لیے 25 فیصد کوٹا نافذ کرنے میں غفلت پر سپریم کورٹ کی این سی پی سی آر کو پھٹکار
نئی دہلی، 29 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اسکولوں میں معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے 25 فیصد کوٹا نافذ کرنے میں مبینہ طور پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے پر منگل کو قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) کی سزنش کی ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا ک
SC-RAPS-NCPCR-STUDENT-QUOTA


نئی دہلی، 29 ستمبر (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اسکولوں میں معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے 25 فیصد کوٹا نافذ کرنے میں مبینہ طور پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے پر منگل کو قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) کی سزنش کی ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی بنچ نے کمیشن کے چیئرمین اور ڈائریکٹر کو آئندہ سماعت پر ذاتی طور پر عدالت میں موجود رہنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل جنوری میں عدالت نے معاشی طور پر کمزور طلبہ کے لیے کئی احکامات جاری کیے تھے۔ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ ’پڑوس کے اسکول‘ کا تصور اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ طبقے، ذات اور جنس کی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔ حق تعلیم قانون کے نفاذ کی نگرانی کے لیے این سی پی سی آر کو فریق کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ تاہم، اس معاملے میں پہلے سے ہی ایک معیاری طریقہ کار (ایس او پی) موجود ہے۔

عدالت نے این سی پی سی آر کی جانب سے پیش ہونے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی سے کہا کہ ریزرویشن کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کرانے میں این سی پی سی آر کا کردار انتہائی اہم ہے۔ عدالت نے کہا کہ این سی پی سی آر کے سربراہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عدالت نے ان پر کتنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔ اس لیے حق تعلیم قانون کی نگران ایجنسی کے طور پر این سی پی سی آر کو اس قانون کی دفعہ 12 کے تحت مقررہ مقاصد اور اہداف کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔

بنچ نے کہا کہ این سی پی سی آر کے سربراہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آس پاس کا ہر اسکول اس تصور کو نافذ کرے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande