

ایم پی کابینہ کا نوجوانوں کے مفاد میں بڑا فیصلہ، اگنی ویروں کو پانچ محکموں کی بھرتی میں ملے گا 20 فیصد ریزرویشن
- ریاست کی مجموعی ترقی اور مفادِ عامہ کو رفتار دینے کے لیے 24,500 کروڑ روپے کے منصوبوں کو منظوری
بھوپال، 29 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو منترالیہ میں منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں ریاست کی ہمہ جہت ترقی کو رفتار دینے کے لیے تقریباً 24 ہزار 500 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبوں کو منظوری دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی سمت میں تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے کابینہ نے پانچ محکموں-پولیس کانسٹیبل، خصوصی مسلح فورس، جیل پرہری، فارسٹ گارڈ اور ایکسائز کانسٹیبل جیسی وردی والی خدمات میں اگنی ویروں کو 20 فیصد افقی (ہاریزونٹل) ریزرویشن دینے کا بڑا فیصلہ کیا۔
ایم ایس ایم ای کے وزیر چیتنیہ کاشیپ نے میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کی نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی منشا کے مطابق کونسل آف منسٹرز نے ریاست کی وردی والی خدمات میں اگنی ویروں کو 20 فیصد ریزرویشن دینے کا تاریخی فیصلہ لیا ہے۔ فیصلے کے مطابق، اب محکمۂ داخلہ کے تحت کانسٹیبل (جنرل ڈیوٹی) کی بھرتی میں ہوم گارڈز کو 10، سابق فوجیوں کو 5 اور اگنی ویروں کو 20 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ اسی طرح محکمۂ داخلہ کے تحت خصوصی مسلح فورس میں ہوم گارڈز کو 10، سابق فوجیوں کو 5 اور اگنی ویروں کو 20 فیصد، محکمۂ جیل کے تحت جیل پرہری میں ہوم گارڈز کو 15، سابق فوجیوں کو 5 اور اگنی ویروں کو 20، محکمۂ جنگلات کے تحت فارسٹ گارڈ میں ہوم گارڈز کو 15، سابق فوجیوں کو 5 اور اگنی ویروں کو 20 فیصد، نیز محکمۂ کمرشل ٹیکس کے تحت ایکسائز کانسٹیبل میں ہوم گارڈز کو 10، سابق فوجیوں کو 5 اور اگنی ویروں کو 20 فیصد ریزرویشن (ہوریجنٹل) دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزرا کونسل نے تعلیم اور صحت کی خدمات کو مستحکم کرنے کے مقصد سے 76 ہزار سے زائد گیسٹ ٹیچرز کے مشاہرے کے لیے آئندہ پانچ برسوں کے لیے 5,329.17 کروڑ روپے، اسکولی طلبہ کے یونیفارم فنڈ کے لیے 348 کروڑ 7 لاکھ روپے نیز ہیلتھ سینٹرز اور ادویات کے کنٹرول کے لیے 3,245 کروڑ 80 لاکھ روپے منظور کیے۔
کاشیپ نے بتایا کہ کونسل آف منسٹرز نے ضلع اسپتال سنگرولی میں اضافی 155 بستروں کے اضافے کے ساتھ 450 سے 605 بستروں کے اسپتال کی توسیع، اندرونی و بیرونی ترقیاتی کاموں، بائیو میڈیکل آلات اور اسپتال کے فرنیچر وغیرہ کے لیے 372 کروڑ 12 لاکھ روپے اور دموہ-کٹنی روڈ لمبائی 105.10 کلومیٹر کو 4-لین مع پیوڈ شولڈر کے ساتھ ہائبرڈ اینوئٹی ماڈل (ایچ اے ایم) کے لیے تیار کردہ ماڈل کنسیشن ایگریمنٹ کی بنیاد پر تعمیر کے لیے 4,470 کروڑ 30 لاکھ روپے (بشمول جی ایس ٹی) کی انتظامی منظوری دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزرا کونسل نے محکمۂ صحتِ عامہ و طبی تعلیم کے تحت تین اسکیموں کو یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک مسلسل جاری رکھنے کے لیے 3,245 کروڑ 80 لاکھ روپے اور چھندواڑہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسپتال اور دیگر عمارات کی تعمیر و تمام متعلقہ خدمات سمیت بیرونی ترقیاتی کاموں کے لیے 953 کروڑ 69 لاکھ روپے کی نظرِ ثانی شدہ انتظامی منظوری دی ہے۔
وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کونسل آف منسٹرز نے اجین کے کانہ ڈائیورژن کلوز ڈکٹ پروجیکٹ کے مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک مسلسل نفاذ کے لیے 358 کروڑ 22 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد اجین کی مقدس شپرا ندی میں آلودہ کانہ ندی کا پانی داخل ہونے سے روکنا ہے۔ یہ منصوبہ 2028 میں اجین میں منعقد ہونے والے سنہستھ مہاپرو کے پیشِ نظر زیرِ تعمیر ہے۔ اس کے تحت آلودہ کانہ ندی کے پانی کو 30.15 کلومیٹر طویل زیرِ زمین سرنگ اور ڈھکی ہوئی نہر کے ذریعے موڑ کر گمبھیر ندی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کونسل آف منسٹرز نے ضلع نیمچ کے رام پورا منسا مائیکرو لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کو مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک مسلسل جاری رکھنے کے لیے 524 کروڑ 65 لاکھ روپے اور ضلع ساگر کی بنڈا تحصیل کے گاؤں اولدن میں دھسان ندی پر مجوزہ بنڈا بڑے آبپاشی پروجیکٹ کو مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک مسلسل چلانے کے لیے 1,052 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔
وزرا کونسل نے درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے ہاسٹلز اور آشرموں کی مانند ہی ڈی نوٹیفائیڈ، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش فلاحی محکمے کے ہاسٹلز، آشرموں اور کمیونٹی ویلفیئر سینٹرز کے مکینوں کو خوراک کے لیے 1 روپیہ فی کلوگرام کی شرح سے اناج کی فراہمی کی منظوری دی ہے۔ اس کے لیے تقسیم شدہ اناج پر ریاستی سبسڈی کی ادائیگی طلبہ کو رعایتی شرح پر اناج اسکیم کے تحت ریاستی حکومت کی گرانٹ مد سے وضع کی جائے گی۔
وزرا کونسل نے مئو گنج، چھندواڑہ، میہر اور ٹیکم گڑھ اضلاع میں نئے ضلعی ہتھ کرگھا (ہینڈلوم) دفاتر کے لیے 3-3 نئی آسامیاں، کل 12 نئی آسامیاں پیدا کرنے کے ساتھ ہینڈلوم ڈائریکٹوریٹ کے لیے 2 کروڑ 41 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔ منظور شدہ اسامیوں کو محکمے کے متعلقہ بھرتی قواعد میں شامل کرنے کی ضروری کارروائی کے لیے محکمۂ کاٹیج اور دیہی صنعت کو مجاز کیا گیا ہے۔
وزرا کونسل نے ایم پی سیس ایکٹ 1982 کے تحت اراضی کی منتقلی پر لگنے والے سیس کو دیہی ترقیاتی فنڈ میں منتقل کرنے کی اسکیم کے مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک تسلسل کے لیے 3,580.22 کروڑ روپے، محکمۂ قانون و امورِ قانون سازی کی 14 اہم اسکیموں کو سولہویں مالیاتی کمیشن کی مدت یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک جاری رکھنے کے لیے 1,342 کروڑ 48 لاکھ روپے اور محکمۂ قانون و امورِ قانون سازی کے رجسٹرار مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے تحت نفقہ نامہ کی تعمیل سے متعلق اسکیم کو سولہویں مالیاتی کمیشن کی مدت یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 کے لیے جاری رکھنے کی غرض سے 622 کروڑ 37 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔
وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کونسل آف منسٹرز نے ریاست میں پیدا ہونے والی جنگلاتی پیداوار (معدنی جنگلاتی پیداوار، معمولی جنگلاتی پیداوار اور بانس کو چھوڑ کر) اور دیگر ریاستوں سے درآمد کی جانے والی جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل کے لیے ٹرانزٹ فیس اور این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) فیس کے نئے نرخوں کی منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی معدنی جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل پر بھی فی ٹن کے حساب سے فیس مقرر کی گئی ہے۔
منظوری کے مطابق عام جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل کے لیے ایک کیوبک میٹر تک کی مقدار پر 200 روپے کی فیس طے کی گئی ہے۔ ایک کیوبک میٹر سے زائد مقدار ہونے کی صورت میں پہلے کیوبک میٹر کے لیے 200 روپے اور اس کے بعد ہر اضافی کیوبک میٹر کے لیے 100 روپے اضافی قابلِ ادائیگی ہوں گے۔ اگر اضافی مقدار نصف (1/2) کیوبک میٹر سے کم ہے تو اس کا شمار صفر مانا جائے گا، جبکہ اگر یہ مقدار نصف کیوبک میٹر سے زائد اور ایک کیوبک میٹر سے کم ہے تو اس کا حساب پورے ایک کیوبک میٹر کے طور پر کیا جائے گا۔
وزرا کونسل نے معدنی جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل کے لیے بھی فی ٹن فیس کے نرخوں کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت پہلی کیٹیگری کے معدنیات-جیسے چونا پتھر، ڈولومائٹ، فائر کلے، مینگنیز کچ دھات، تانبے کی کچ دھات، راک فاسفیٹ، پائروفیلائٹ، ڈائاسپور، گیرو، باکسائٹ، لوہے کی کچ دھات، کیلسائٹ، کوئلہ، کوارٹز، سلیکا ریت، شیل، سلیٹ اور صابن پتھر کی نقل و حمل پر 81 روپے فی ٹن کی شرح سے فیس مقرر کی گئی ہے۔ دوسری کیٹیگری میں شامل فلیگ اسٹون، گرینائٹ، سنگِ مرمر اور مٹی پتھر کی نقل و حمل کے لیے 52 روپے فی ٹن کی فیس قابلِ ادا ہوگی۔
دیگر فیصلے
وزرا کونسل نے مرکزی معاونت والی اسکیم ’’عدالتی عمارات کی تعمیر‘‘ میں منظور شدہ تعمیری کاموں کی زیرِ التواء ذمہ داریوں میں حکومتِ ہند کی جانب سے مقرر کردہ اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد سے زائد کی رقم 691 کروڑ 1 لاکھ روپے کی ادائیگی ریاستی حکومت کی طرف سے ریاستی اسکیم میں دستیاب کرائی گئی رقم سے کرنے کی اجازت دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن