طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے کی حمایت میں سابق طلبہ یونین صدر عبدالحفیظ گاندھی دھرنے میں پہنچے
علی گڑھ, 29 ستمبر (ہ س): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کو کو لیکر ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد کی جانب سے جاری بھوک ہڑتال منگل کو نویں روز میں داخل ہوگئی۔ اسی سلسلے میں سابق اے ایم یو طلبہ یونین صدر عبدالحفیظ گاندھی نے دھرنا مق
خطاب کرتے ہوئے عبدالحفیظ گاندھی


علی گڑھ, 29 ستمبر (ہ س): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کو کو لیکر ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد کی جانب سے جاری بھوک ہڑتال منگل کو نویں روز میں داخل ہوگئی۔ اسی سلسلے میں سابق اے ایم یو طلبہ یونین صدر عبدالحفیظ گاندھی نے دھرنا مقام پر پہنچ کر احتجاج کر رہے طلبہ سے ملاقات کی اور ان کے مطالبے کی حمایت میں یکجہتی کا اظہار کیا۔

عبدالحفیظ گاندھی نے کہا کہ طلبہ یونین کا قیام طلبہ کا جمہوری اور قانونی حق ہے۔ گزشتہ آٹھ برس سے طلبہ یونین کے انتخابات نہ ہونے سے طلبہ اپنے اس حق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود 2005 میں طلبہ یونین کے صدر رہ چکے ہیں اور اس لیے طلبہ یونین کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی یونیورسٹی میں طلبہ یونین ایک منتخب اور اجتماعی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جہاں طلبہ اپنے مسائل اور مطالبات انتظامیہ کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرسکتے ہیں۔ ہاسٹل، اسکالرشپ، کھیلوں کی سہولیات اور دیگر طلبہ مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندوں کے ذریعے انتظامیہ سے بات چیت زیادہ مؤثر طریقے سے ہوسکتی ہے۔

عبدالکریم گاندھی نے کہا کہ اگر انتظامیہ کو انتخابات کے حوالے سے کوئی خدشہ ہے تو لنگدوه کمیٹی کی سفارشات کے تحت ضابطے کے مطابق انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دیگر اداروں اور تنظیموں کے انتخابات ہوسکتے ہیں تو طلبہ یونین کے انتخابات بھی کرائے جانے چاہئیں۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے کسی ممکنہ دباؤ سے متعلق سوال پر کہا کہ یونیورسٹی ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے اپنے فیصلے خود لینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے سی، ای سی، اے ایم یو ٹی اے اور اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے انتخابات ہوسکتے ہیں تو اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات نہ کرانے کی وجہ واضح ہونی چاہیے۔

سابق طلبہ یونین صدر نے کہا کہ طلبہ یونین صرف طلبہ کے مسائل اٹھانے کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ جمہوری قیادت کی تربیت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ یونیورسٹی میں طلبہ جمہوری طریقہ کار، گفتگو اور نمائندگی کا ہنر سیکھتے ہیں، جس سے مستقبل میں ریاستی اور قومی سطح پر قیادت سامنے آتی ہے۔

انہوں نے اے ایم یو انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے جلد از جلد انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور دھرنے پر بیٹھے طلبہ سے بات چیت کرکے ان کے مطالبات پر غور کیا جائے۔

واضح رہے کہ یاسر فہد گزشتہ نو روز سے طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے کو لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے، تاہم وہ طلبہ یونین کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان تک اپنا احتجاج جاری رکھنے پر قائم ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande