
علی گڑھ, 29 ستمبر (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین انتخابات کرانے اور طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کو لے کر ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد کی بھوک ہڑتال منگل کو نویں روز میں داخل ہوگئی۔ یاسر فہد نے کہا کہ نو روز گزرنے کے باوجود انہیں اب تک انتظامیہ کی جانب سے ان کے مطالبے کو لے کر کسی ٹھوس کارروائی یا بات چیت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی طبیعت متاثر ہو رہی ہے اور منگل کی صبح انہیں شدید کریمپ کی شکایت ہوئی۔
یاسر فہد کے مطابق طبیعت خراب ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد اے ایم یو کے پراکٹر پروفیسر محمد ناوید خان ان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ یاسر فہد نے بتایا کہ انہوں نے پراکٹر سے سوال کیا کہ طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے پر انتظامیہ نے اب تک کیا کارروائی کی ہے۔ ان کے مطابق پراکٹر کی جانب سے ان سے ڈائیلاگ کرنے کی بات کہی گئی، تاہم انہوں نے کہا کہ جب مسئلہ حل کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے تو وہ ان سے ڈائیلاگ کیوں کریں۔
یاسر فہد نے کہا کہ وہ پہلے بھی ڈائیلاگ کے نام پر ہونے والی کارروائی سے مطمئن نہیں رہے ہیں اور اب کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس سے ان کے اصل مطالبے سے توجہ ہٹ جائے۔ ان کے مطابق ان کا بنیادی مطالبہ طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہے۔
دھرنا گاہ پر پیش آئے واقعہ پر سنگین الزامات
یاسر فہد نے گزشتہ روز دھرنا گاہ پر پیش آئے واقعہ کے بارے میں بھی اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک گروپ بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ اچانک دھرنا گاہ پر پہنچا اور وہاں موجود عام طلبہ کے ساتھ دھکا مکی اور مارپیٹ کی کوشش کی گئی۔ یاسر فہد نے دعویٰ کیا کہ واقعہ کے بعد خود کو زخمی ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ دھرنا گاہ کے اطراف سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں اور پورے واقعہ کی فوٹیج سامنے آنی چاہیے۔ یاسر فہد نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے ذریعے طلبہ کے احتجاج کو کسی مخصوص گروپ یا ’ایسٹ اور ویسٹ لابی‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔
یاسر فہد نے کہا کہ وہ گزشتہ نو روز سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اگر کسی کو طلبہ کے مسائل کی واقعی فکر تھی تو اسے طلبہ کی حمایت کے لیے آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے دھرنا گاہ پر پیش آئے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کے باوجود واقعہ پر سوال
یاسر فہد نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی پراکٹر کو تحریری طور پر مطلع کیا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کو ’مرتے دم تک بھوک ہڑتال‘ تک لے جانے جارہے ہیں اور انہیں دھرنا گاہ پر تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود اگر دھرنا گاہ پر اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہے تو یہ انتظامی اور سکیورٹی انتظامات پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ جس مقام کو احتجاج کے لیے منتخب کیا گیا تھا، وہاں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ دھکا مکی کی صورت حال کیسے پیدا ہوئی۔
پستول اور دھار دار ہتھیاروں کے الزامات پر غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
یاسر فہد نے کہا کہ واقعہ کے بعد فیصل تیاگی اور ان کی ٹیم کی جانب سے عام طلبہ پر دھار دار ہتھیاروں اور پستول سے حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ طلبہ نے ان کے کہنے پر حملہ کیا۔
یاسر فہد نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے میں ایس ایس پی کے پی آر او سے فون پر بات کی ہے اور بدھ کو صبح 11 بجے ایک وفد پولیس افسران سے ملاقات کرے گا۔ ان کے مطابق وفد پولیس کے سامنے اپنا موقف اور وضاحت پیش کرے گا۔
انہوں نے ایس ایس پی سے پورے معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ یاسر فہد نے کہا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج یا دیگر شواہد کی بنیاد پر عام طلبہ ان الزامات میں قصوروار پائے جاتے ہیں اور ان کے پاس ہتھیار ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو وہ خود ذمہ داری لیتے ہوئے ان طلبہ کو پولیس کے سامنے پیش کرانے میں تعاون کریں گے۔
دوسری جانب انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ طلبہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے تو شکایت کنندگان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
سابق طلبہ یونین صدر حفیظ گاندھی کی حمایت پر یاسر فہد نے کیا شکریہ ادا
یاسر فہد نے بتایا کہ منگل کو 2005 بیچ کے اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدر حفیظ غازی دھرنا گاہ پر پہنچے اور احتجاجی طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ یاسر فہد نے کہا کہ حفیظ غازی خود طلبہ یونین کا حصہ رہ چکے ہیں اور اے ایم یو کے سابق طالب علم ہیں۔ ایسے میں ان کا دھرنا گاہ پر پہنچ کر طلبہ کے مطالبے کی حمایت کرنا ان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
یاسر فہد نے حفیظ غازی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے جونیئر طلبہ کے مطالبے اور طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد کے تئیں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حفیظ غازی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
یاسر فہد نے ایک بار پھر اے ایم یو انتظامیہ سے طلبہ یونین انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے اور طلبہ کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مطالبے پر ٹھوس پیش رفت ہونے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ