اے ایم یو میں آٹھ برس سے انتخابات زیرِ التوا، طالب علم یاسر فہد کی بھوک ہڑتال آٹھویں روز میں داخل
علی گڑھ, 28 ستمبر (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔ ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد کی جانب سے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے مطالبے کو لے کر جاری بھوک ہڑتال آٹھویں روز م
احتجاج


علی گڑھ, 28 ستمبر (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔ ایم اے اردو کے طالب علم یاسر فہد کی جانب سے طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے مطالبے کو لے کر جاری بھوک ہڑتال آٹھویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔

طلبہ یونین کے انتخابات گزشتہ تقریباً آٹھ برس سے نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ نمائندہ یونین نہ ہونے کے باعث طلبہ کے مختلف مسائل کو مؤثر طور پر ادارہ جاتی سطح پر اٹھانے میں دشواری پیش آتی ہے۔

اس معاملے پر تحریر میں یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ طلبہ کے نمائندوں کے ساتھ مکالمے کا راستہ کھولا جائے۔ اگر انتخابات کے انعقاد میں کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ ہے تو اسے طلبہ کے سامنے واضح کیا جائے اور اگر انتخابات ممکن ہیں تو اس سلسلے میں آئندہ کے لائحۂ عمل اور ممکنہ مدت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔

تحریر میں اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن، ایگزیکٹو کونسل، اکیڈمک کونسل، اے ایم یو کورٹ ممبرز، نان ٹیچنگ و ٹیکنیکل اسٹاف کی تنظیموں، سابق طلبہ یونین عہدیداران اور اولڈ بوائز ایسوسی ایشن سے بھی مکالمے کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

تحریر کے مطابق کسی مطالبے کی حمایت یا مخالفت سے قطع نظر احتجاج کرنے والے طالب علم سے بات چیت اور مسئلے کے ادارہ جاتی حل کی کوشش یونیورسٹی کے جمہوری ماحول کے لیے اہم ہوسکتی ہے۔ طلبہ سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ ان کا احتجاج پُرامن اور جمہوری دائرے میں جاری رہے۔

تحریر میں کہا گیا ہے کہ طلبہ یونین انتخابات کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنی پالیسی، ممکنہ رکاوٹوں اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے بارے میں واضح موقف سامنے رکھنا چاہیے، تاکہ طویل عرصے سے زیر التوا اس معاملے پر بامعنی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوسکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande