دہلی میں علی گاؤں کے دلتوں کے گھر توڑنے پر آمادہ بی جے پی حکومت کے خلاف آپ کا زبردست احتجاج
نئی دہلی، 28 ستمبر(ہ س )۔ دہلی کے علی گاؤں میں دلتوں کے گھر توڑنے پر آمادہ بی جے پی حکومت کے خلاف عام آدمی پارٹی نے پیر کو زبردست احتجاج کیا۔ آپ کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں رکنِ اسمبلی امانت اللہ خان اور کلدیپ کمار سمیت بڑی تعداد م
دہلی میں علی گاؤں کے دلتوں کے گھر توڑنے پر آمادہ بی جے پی حکومت کے خلاف آپ کا زبردست احتجاج


نئی دہلی، 28 ستمبر(ہ س )۔

دہلی کے علی گاؤں میں دلتوں کے گھر توڑنے پر آمادہ بی جے پی حکومت کے خلاف عام آدمی پارٹی نے پیر کو زبردست احتجاج کیا۔ آپ کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج کی قیادت میں رکنِ اسمبلی امانت اللہ خان اور کلدیپ کمار سمیت بڑی تعداد میں پارٹی کارکن علی گاؤں پہنچے اور متاثرہ خاندانوں کے احتجاج میں شامل ہوکر بی جے پی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کی۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ علی گؤں میں سیکڑوں دلت خاندان برسوں سے رہ رہے ہیں۔ یہ گاؤں دہلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، لیکن یوپی حکومت کا محکمہ آب پاشی اسے اپنی زمین بتا کر گاؤں کو اجاڑنا چاہتا ہے۔ غریبوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانا حکومت کی غنڈہ گردی ہے۔ پہلے بی جے پی حکومت نے دہلی میں ایک تہائی لوگوں کے ووٹ کاٹ دیے اور اب ان کے گھر اجاڑنے جا رہی ہے۔علی گاؤں کے دورے پر پہنچے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ لوگ اپنے بچوں اور پورے خاندان کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں، لیکن حکومت ان لوگوں پر بلڈوزر چلاتے ہوئے ذرا بھی رحم نہیں کرے گی۔ یہ کیسی حکومت ہے؟ یہ حکومت تو انہی لوگوں کے لیے بنائی گئی تھی اور انہی لوگوں سے وعدے کیے گئے تھے۔

یہ کوئی جھگیاں نہیں ہیں، بلکہ لوگوں کے پختہ مکان ہیں۔ حکومت ان پر اس طرح بلڈوزر کیسے چلا سکتی ہے؟ یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ لوگوں نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی لگا کر مکان بنائے ہیں اور حکومت ان مکانوں پر یوں ہی بلڈوزر چلا دے گی۔ یہ سراسر ناانصافی اور غنڈہ گردی ہے۔ یہ دہلی سے غریبوں کو بھگانے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔ پہلے ایک تہائی لوگوں کے ووٹ کاٹ دیے گئے اور اب ان کے گھر اور کاروبار اجاڑے جا رہے ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ علی گاؤں سیکڑوں برسوں سے آباد ہے۔ حکومت یہ کیسے طے کر سکتی ہے کہ وہ اس پر بلڈوزر چلا دے گی؟ ان لوگوں کے بچے، پورے خاندان، اسکول اور ملازمتیں ہیں، ان کا کیا ہوگا؟ یہ حکومت ان لوگوں سے وعدہ کرکے اقتدار میں آئی تھی کہ ان کے لیے اچھا کام کرے گی، لیکن گزشتہ دو برسوں میں اس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ اس حکومت نے لوگوں کو آنسو دیے ہیں اور اس کے دل میں کسی کے لیے کوئی رحم نہیں ہے۔

سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہاں 90 فیصد لوگ دلت سماج سے تعلق رکھتے ہیں اور یہاں جے بھیم کے نعرے لگ رہے ہیں۔ کیا بی جے پی دلتوں کو ہندو نہیں مانتی؟ ان دلتوں کو بڑی مشکل سے سر چھپانے کی جگہ ملی تھی، حکومت اسے بھی اجاڑ دے گی۔ حکومت نہیں چاہتی کہ یہ لوگ دہلی میں رہیں، وہ چاہتی ہے کہ سب لوگ دہلی چھوڑ کر واپس چلے جائیں۔ یہ بہت غلط ہے اور حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔ لوگ سڑکوں پر اتریں گے اور حکومت سے سوال کریں گے۔وہیں، اوکھلا کے رکنِ اسمبلی امانت اللہ خان نے کہا کہ میری اسمبلی حلقے میں علی گاؤں کا یہ آخری حصہ ہے۔ اس کے بعد بدرپور شروع ہو جاتا ہے۔ اتر پردیش کا محکمہ آب پاشی یہاں تقریباً 2,000 گھروں کو توڑنا چاہتا ہے، جبکہ یہ علاقہ اور دائرہ اختیار دہلی کا ہے۔ علی گاؤں کا نصف سے زیادہ حصہ لال ڈورا کے اندر آتا ہے، جہاں لوگ 100 سے 150 سال سے بھی زیادہ عرصے سے رہ رہے ہیں اور کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو یہاں 50 سال سے کم عرصے سے رہ رہا ہو۔ آج یوپی حکومت کو یاد آ رہا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے، لیکن وہ اس زمین کا کیا کرے گی؟

امانت اللہ خان نے کہا کہ یہاں رہنے والے 90 فیصد لوگ دلت سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں تقریباً 2,000 خاندان ہیں، جن میں 15,000 سے زیادہ لوگ، بوڑھے، خواتین، بچے اور نوجوان رہتے ہیں۔ وہ لوگ کہاں جائیں گے؟ بچوں کے امتحانات چل رہے ہیں اور حکومت انہیں اجاڑ رہی ہے۔ اگر یوپی کے محکمہ آب پاشی کو زمین کی ضرورت ہے تو اس کے پاس یہاں نہ جانے کتنے ہزار بیگھہ زمین موجود ہے، لیکن وہ اس پر کچھ نہیں کر رہا۔

مرکز میں ہو، دہلی میں ہو یا یوپی میں بیٹھی ہو، بی جے پی کی حکومتیں دلت مخالف ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ تقریباً 15,000 لوگوں کو ایک جھٹکے میں بے گھر کرنا چاہتی ہیں۔ادھر، کونڈلی کے رکنِ اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ بی جے پی حکومت دلت مخالف ہے، جو غریبوں اور دلتوں کے مکان اجاڑنے کی بات کرتی ہے۔انتخابات سے پہلے یہ حکومت اپنے منشور میں کہتی تھی کہ جہاں جھگی، وہیں مکان ہوگا اور دعویٰ کرتی تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام کالونیوں کو پکا کر دیا ہے۔کلدیپ کمار نے سوال کیا کہ اگر مودی جی نے تمام کالونیوں کو پکا کر دیا ہے تو یہ کالونی کچی کیسے رہ گئی اور حکومت غریبوں کے خلاف جاکر اسے کیوں توڑ رہی ہے؟ جب غریبوں اور دلتوں کے مکان توڑے جا رہے ہیں تو وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کہاں سو رہی ہیں؟ بی جے پی کے رکنِ پارلیمنٹ ہرش ملہوترا اور رام ویر سنگھ بدھوڑی کہاں ہیں؟ یہ لوگ یہاں اس لیے نہیں آئیں گے کیونکہ یہ دلت سماج کے لوگوں کے مکان ہیں۔

حکومت کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دلتوں کے مکان ٹوٹیں یا ان کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری ہو۔ یہ لوگ آرام سے اپنے گھروں میں سو رہے ہیں۔کلدیپ کمار نے کہا کہ اگر علی گاؤں کا ایک بھی مکان ٹوٹا تو بی جے پی حکومت کو عام آدمی پارٹی سے گزرنا ہوگا۔ ہم جدوجہد کریں گے اور یہاں کسی بھی غریب آدمی کا ایک بھی مکان ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ آج دہلی میں چار انجن والی بی جے پی حکومت کا سب سے بڑا نقصان اگر کسی کو ہو رہا ہے تو وہ دلت سماج کے لوگوں کو ہو رہا ہے۔ آج دہلی اور یوپی دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے اور دونوں حکومتیں اور ان کی پولیس فورس مل کر غریبوں اور دلتوں کے مکان اجاڑ رہی ہیں۔کلدیپ کمار نے کہا کہ یہ ایک دلت مخالف حکومت ہے، لیکن ہم پورے علی گاؤں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عام آدمی پارٹی یہاں ڈٹی ہوئی ہے اور جب تک لوگوں کے مکان نہیں بچ جاتے، ہم آخری دم تک ڈٹے رہیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande