اسلامی معاشرے کی تعمیر میں علماء کا کردار اہم، قرآن و سنت سے وابستگی اور اتحادِ امت کا پیغام عام کیا جائے
اصلاحِ معاشرہ کا آغاز اپنی ذات، گھر، نماز اور اخلاق سے کریں، علماء اتحاد و اخوت کا عملی نمونہ پیش کریں: مولانا ارشد سراج الدین مکی نئی دہلی، 28 ستمبر (ہ س ) مجلس العلماء دہلی کے زیر اہتمام تکیہ والی مسجد، نبی کریم، نئی دہلی میں ”اسلامی معاشرے کی ت
اسلامی معاشرے کی تعمیر میں علماء کا کردار اہم، قرآن و سنت سے وابستگی اور اتحادِ امت کا پیغام عام کیا جائے


اصلاحِ معاشرہ کا آغاز اپنی ذات، گھر، نماز اور اخلاق سے کریں، علماء اتحاد و اخوت کا عملی نمونہ پیش کریں: مولانا ارشد سراج الدین مکی

نئی دہلی، 28 ستمبر (ہ س ) مجلس العلماء دہلی کے زیر اہتمام تکیہ والی مسجد، نبی کریم، نئی دہلی میں ”اسلامی معاشرے کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے عنوان سے علماء و ائمہ مساجد کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اجتماع کی صدارت مجلس العلماء دہلی کے صدر مولانا ارشد سراج الدین مکی نے کی، جبکہ پروگرام کا انتظام جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کی مقامی یونٹ نبی کریم کی جانب سے کیا گیا۔ اجتماع میں تقریباً 30 علمائے کرام سمیت 50 افراد نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز قاری نجم الہدیٰ کی تلاوتِ قرآن مجید اور ترجمانی سے ہوا۔ انہوں نے نعتیہ کلام بھی پیش کیا۔ اس کے بعد مجلس العلماءدہلی کے جنرل سکریٹری مفتی محمد احمد اللہ قاسمی نے افتتاحی کلمات میں مجلس کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں میں قرآن و سنت سے استفادے کا مزاج عام ہونا چاہیے اور باہمی کشمکش و مسلکی تعصب سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے متحدہ فکر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو منظم انداز میں انجام دینے پر بھی زور دیا اور مجلس العلماءدہلی کا مختصر تعارف پیش کیا۔

بعد ازاں ”اسلامی معاشرے کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے موضوع پر مذاکرہ ہوا، جس میں متعدد علمائے کرام اور ائمہ مساجد نے اظہار خیال کیا۔ مفتی زکریا قاسمی، مولانا تنویر احمد قاسمی، امام مسجد ابوبکر، مولانا عبد السبحان قاسمی، سکریٹری جمعیت علماء صوبہ دہلی، مولانا شہزاد ندوی، مولانا سید احمد غازی فلاحی اور مفتی محمد علی نے معاشرے میں پائی جانے والی مختلف خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے علمائ کی ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

مقررین نے کہا کہ علماءانبیاء کے وارث ہیں اور قرآن کریم نے انبیاء کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں تلاوتِ آیات، تزکیہ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں علمائ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کی رہنمائی کریں، اصلاحِ معاشرہ کے پیغام کو عام کریں اور لوگوں کو اپنی منصبی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔

شرکائ نے اتحاد و اتفاق، باہمی اخوت اور مسلکی کشمکش سے بالاتر ہوکر کتاب و سنت سے مضبوط وابستگی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اس موقع پر علماء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے دوسروں کی اصلاح سے پہلے خود اپنی اصلاح ضروری ہے اور علماء کو اپنے قول کے ساتھ اپنے عمل سے بھی اتحاد و اخوت کا نمونہ پیش کرنا چاہیے۔

اپنے صدارتی خطاب میں مولانا ارشد سراج الدین مکی نے اجتماع میں ہونے والی گفتگو کے مختلف پہلوو¿ں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔ دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گھر، نماز اور اخلاق کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علماء اپنے خطابات میں اتحادِ امت کی بات کریں اور اس کا عملی نمونہ بھی پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ علماء قرآن و سنت کی بنیاد پر دین کا صحیح تعارف کرائیں اور امت کو اس کی منصبی ذمہ داریوں کے لیے تیار کریں۔ علماء کو اسلامی اخوت کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے معاشرے میں اسے فروغ دینے کے لیے مستقل اور مضبوط جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے وسطی دہلی میں دارالقضائ کے قیام کی ضرورت اور اہمیت کی طرف بھی شرکاء کی توجہ مبذول کرائی۔

اجتماع کے اختتام پر مجلس العلماءدہلی کی جانب سے شرکاء کو مختلف کتابیں تحفے میں پیش کی گئیں، جن میں ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی کی کتاب ”اصلاحِ معاشرہ“ بھی شامل تھی۔ اس موقع پر شرکاء کو مجلس العلمائ دہلی کے تعارف اور اس کے مقاصد سے بھی آگاہ کیا گیا۔

حافظ مطلوب احمد، امیر مقامی نبی کریم نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔ مولانا عبد السبحان قاسمی نے شرکائ کا تعارف کرایا، جبکہ مولانا عبد السبحان اور نبی کریم کے مقامی رفقاءنے اجتماع کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کیا۔ پروگرام کی نظامت مفتی محمد احمد اللہ قاسمی نے انجام دی اور مولانا شاکر کی دعا پر اجتماع اختتام پذیر ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande