سیاحت کو ملے گا ڈیجیٹل فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافے کی امید
علی گڑھ, 28 ستمبر (ہ س)۔ عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر کمشنری اجلاس ہال میں ایڈیشنل کمشنر انتظامیہ پردیپ کمار یادو کی صدارت میں انفلوئنسر میٹ کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا افتتاح ماں سرسوتی کی مورتی کے سامنے چراغ روشن کرکے کیا گیا۔ اس موقع پر علی
سیاحت


علی گڑھ, 28 ستمبر (ہ س)۔

عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر کمشنری اجلاس ہال میں ایڈیشنل کمشنر انتظامیہ پردیپ کمار یادو کی صدارت میں انفلوئنسر میٹ کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا افتتاح ماں سرسوتی کی مورتی کے سامنے چراغ روشن کرکے کیا گیا۔ اس موقع پر علی گڑھ کی تاریخی، ثقافتی اور علاقائی سیاحتی صلاحیتوں کو ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے وسیع شناخت دلانے اور مقامی سیاحت کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایڈیشنل کمشنر انتظامیہ پردیپ کمار یادو نے کہا کہ علاقائی اور ثقافتی تنوع ہی حقیقی سیاحت کی شناخت ہے۔ موجودہ دور میں آمدورفت کی سہولت بہتر ہونے سے سیاحوں کے لیے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنا آسان ہوا ہے۔ ایسے میں علی گڑھ جیسے تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے مالامال ضلع میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کو فروغ دینے میں انفلوئنسرز کا کردار اہم ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سیاحتی مقامات، مقامی ثقافت، کھانے پینے کی روایات، دست کاری اور تاریخی ورثے کو ملک اور دنیا کے لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جاسکتا ہے۔

علاقائی سیاحت افسر انوپم سری واستو نے بتایا کہ ہر سال 27 ستمبر کو عالمی یومِ سیاحت منایا جاتا ہے۔ اس سال کا موضوع ’’سیاحت کی ازسرنو تشکیل کے لیے ڈیجیٹل ایجنڈا اور مصنوعی ذہانت‘‘ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیاحت کو نئی سمت دینے کے مقصد سے انفلوئنسر میٹ کا انعقاد کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے مؤثر استعمال سے علی گڑھ کے سیاحتی مقامات کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جاسکتا ہے۔

انفلوئنسر پنکج دھیرج نے کہا کہ نئی سیاحتی پالیسی ہوٹل اور سیاحت کے شعبے کی ترقی میں اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے متھرا-ورنداون سے وابستہ برج سرکٹ میں علی گڑھ کو بھی شامل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس سے ضلع میں آنے والے سیاحوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ مقامی سیاحتی سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔

ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر مانَو مہاجن نے کہا کہ برج خطے میں آنے والے سیاحوں کو اگر علی گڑھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے اور بھگوان شری کرشن سے وابستہ مقامی حوالوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تو علی گڑھ بھی ان کے سیاحتی نقشے میں شامل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت صرف سیر و تفریح کا نام نہیں بلکہ نئے تجربات حاصل کرنے اور مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ علی گڑھ قلعہ اپنی تاریخی اہمیت اور تعمیراتی حسن کے باعث ضلع کا اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔

اودیان ریزورٹ کے منتظم کلدیپ آریہ نے کہا کہ سیاحت کا ملک اور ریاست کی معیشت میں اہم کردار ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ سے مقامی سطح پر روزگار اور خود روزگار کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔

سیاحتی مشیر للت جوشی نے بتایا کہ ضلع کے گومت، نیا باس اور سہارا خورد گاؤں کو سیاحتی ترقی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان گاؤں میں مقامی افراد کو کہانی سنانے والے یعنی اسٹوری ٹیلر کے طور پر منتخب کیا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہوم اسٹے کی سہولت تیار کرنے اور سوشل میڈیا صفحات کے ذریعے گاؤں کی ثقافت، روایات اور مقامی خصوصیات کو سیاحوں تک پہنچانے کی پہل بھی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے اقدامات مستقبل میں بڑے نتائج حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پروگرام کے دوران ایڈیشنل کمشنر انتظامیہ پردیپ کمار یادو نے سیاحت اور ہوٹل صنعت کو ڈیجیٹل ذرائع سے فروغ دینے میں تعاون کرنے والے انفلوئنسرز پریتی چودھری، کپل شرماودیگر موجود تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande