ہندوستان کی تفہیم کے لیے سنسکرت، فارسی اور اردو زبان کا علم ضروری ہے: پروفیسر رمیش چندر بھاردواج
تقسیم کے کرب کو اردو افسانہ نگاروں نے بطور خاص جگہ دی: پروفیسر ایس کے اشتیاق احمدادب سیاست کا پابند نہیں بلکہ یہ سیاست کو بھی چراغ دکھاتا ہے: پروفیسر شیخ عقیل احمد قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان بہ اشتراک ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی اردو افسانہ
ہندوستان کی تفہیم کے لیے سنسکرت، فارسی اور اردو زبان کا علم ضروری ہے: پروفیسر رمیش چندر بھاردواج


تقسیم کے کرب کو اردو افسانہ نگاروں نے بطور خاص جگہ دی: پروفیسر ایس کے اشتیاق احمدادب سیاست کا پابند نہیں بلکہ یہ سیاست کو بھی چراغ دکھاتا ہے: پروفیسر شیخ عقیل احمد قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان بہ اشتراک ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی اردو افسانہ اور تقسیم ہند: نفسیاتی مضمرات کے عنوان سے یک روزہ قومی سمینار کا انعقادنئی دہلی،28ستمبر(ہ س)۔

آج بتاریخ 28 ستمبر 2026 ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی کے سمینار ہال میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان بہ اشتراک ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی اردو افسانہ اور تقسیم ہند: نفسیاتی مضمرات کے عنوان سے یک روزہ قومی سمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس سمینار میں افتتاحی اجلاس کے علاوہ دو اہم تکنیکی اجلاس بھی منعقد کیے گئے، جن میں ادبا و دانشوران نے موضوع کے تعلق سے اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر رمیش چندر بھاردواج (سابق وائس چانسلر، مہارشی بالمیکی سنسکرت یونیورسٹی، کیتھل، ہریانہ) اور پروفیسر شیخ عقیل احمد (شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔ پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد (رجسٹرار، مانو، حیدرآباد) نے بطور مہمان خصوصی اور پروفیسر سبھاش کمار سنگھ (پرنسپل ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے بطور مہمان اعزازی شرکت کی۔ اس موقعے پر پروفیسر ابوبکرعباد (صدر شعبہ¿ اردو، دہلی یونیورسٹی) نے کلیدی خطبہ اور ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹراکیڈمک، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی) نے تعارفی کلمات پیش کیے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر قمر الحسن (شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے پیش کیے اورنظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد رکن الدین (شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے ادا کیے۔

صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر رمیش چندر بھاردواج نے اپنے استاد نامور سنگھ کے حوالے سے کہا کہ اردو زبان میں گفتگو سے ایک منفرد قوت کا اظہار ہوتا ہے۔ اردو خالص ہندوستانی اور عوام کی زبان ہے۔ ہندوستانی زبان اور معاشرے کو انگریزی کلچر نے نقصان پہنچایا ہے۔ مذہب کے نام پر ملک کی اور زبان کے نام پر صوبوں کی تقسیم مضر ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی تفہیم کے لیے سنسکرت، فارسی اور اردو زبان کا علم ضروری ہے۔

اس سے قبل ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر، اکیڈمک) نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کی مختلف سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے اردو فکشن میں تقسیم ہند کے نفسیاتی اور سماجی اثرات کی جانب بھی اشارہ کیا اور فکشن سے متعلق قومی اردو کونسل کی مطبوعات سے بھی متعارف کرایا۔

پروفیسر شیخ عقیل احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادب سیاست کا پابند نہیں بلکہ یہ سیاست کو بھی چراغ دکھاتا ہے۔ ایک ادیب معاشرے کا رہنما ہوتا ہے۔

پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند کے ساتھ مختلف مسائل پیدا ہوئے۔ جنگ آزادی اور تقسیم کے کرب کو اردو افسانہ نگاروں نے بطور خاص جگہ دی۔ راجندر سنگھ بیدی، منٹو، خواجہ احمد عباس اور کرشن چندر جیسے متعدد افسانہ نگاروں نے فسادات سے متعلق اہم افسانے تخلیق کیے۔

پروفیسر ابوبکرعباد نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے موضوع سے متعلق متعدد اہم نکات پر روشنی ڈالی اور تقسیم کے سبب اردو افسانے پر پڑنے والے اثرات کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو اردو افسانے نے خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ انھوں نے اردو افسانے کی روایت سے بحث کرتے ہوئے مختلف تحریکات و رجحانات کا ذکر کیا اور اردو افسانے کو درپیش نئے چیلنجز سے روشناس کرایا۔

پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر ابوبکرعباد اور پروفیسر محمد کاظم (شعبہ¿ اردور دلی یونیورسٹی) نے کی۔ اس سیشن میں پانچ مقالے پیش کیے گئے۔ پہلا مقالہ ڈاکٹر شاذیہ عمیر (شعبہ¿ اردو، دہلی یونیورسٹی)نے جمیلہ ہاشمی کا ناول بنواس، تقسیم ہند کے تناظر میں کے عنوان سے، دوسرا مقالہ جناب شعیب رضا فاطمی (ایڈیٹر، روزنامہ ہمارا سماج، دہلی) نے اردو افسانہ اور تقسیم کے مسائل کے عنوان سے، تیسرا مقالہ ڈاکٹر ارشاد احمد خان (شعبہ¿ اردو، دہلی یونیورسٹی) نے اردو ہندی کہانیوں پر تقسیم ہند کے اثرات کا تقابلی مطالعہ کے عنوان سے، چوتھا مقالہ پروفیسر مشرف علی (شعبہ¿ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی،وارانسی) نے اردو افسانے پر تقسیم ہند کے اثرات اور اس کے مضمرات، جوگیندر پال کے خصوصی حوالے سے کے عنوان سے اور پانچواں مقالہ ڈاکٹر شاہد اقبال(شعبہ¿ اردو، دیال سنگھ ایوننگ کالج، دہلی یونیورسٹی) نے تقسیم ہند،مشترکہ تہذیب اور انتشار کے عنوان سے پیش کیا۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر محمد کاظم نے تمام مقالوں پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم کے سبب پیدا ہونے والے خوف کے ماحول کی نمائندگی میں اردو افسانے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر ابوبکرعباد نے کہا کہ ادب کا قاری علوم و فنون کے مختلف شعبوں سے واقف ہوتا ہے اور یہ ایک اچھا شہری بننے میں ہماری مدد کرتا ہے۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عارف اشتیاق (شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔

دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر مشرف علی نے کی۔ اس اجلاس میں بھی پانچ مقالے پیش کیے گئے۔ پہلا مقالہ ڈاکٹرغلام نبی نے ’سعادت حسن منٹو کے افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نفسیاتی مضمرات‘ کے عنوان سے، دوسرا مقالہ پروفیسر شمیم احمد (شعبہ¿ اردو، سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی یونیورسٹی) نے ’تقسیم ہند سے متاثر بے زبان افراد کی کہانی، بے زبان اشیا کی زبانی‘ کے عنوان سے، تیسرا مقالہ پروفیسرمحمد ساجد حسین (شعبہ¿ اردو، دیال سنگھ کالج، دہلی) نے ’تقسیم ہند کے فسادات اور اردو افسانہ‘ کے عنوان سے، چوتھا مقالہ پروفیسر محمد کاظم (شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی) نے ’اردو افسانہ اور تقسیم ہند، نفسیاتی مضمرات: منٹوکے حوالے سے‘ کے عنوان سے اور پانچواں مقالہ ڈاکٹر فیاض احمد( شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے ’تاریخ کی راکھ اور وجود کی ٹوٹ پھوٹ: 1947 کا صدمہ اور اردو افسانہ‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ صدارتی خطبے میں پروفیسر مشرف علی نے تمام مقالہ نگاروں کو اہم موضوعات پر مقالہ پیش کرنے کے لیے مبارکباد پیش کی اور موضوع کی اہمیت و اردو افسانے کے تعلق سے اظہار خیال کیا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر افسانہ (شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔

اخیر میں ڈاکٹر فخر عالم (شعبہ¿ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی) کے کلمات تشکر پر یہ یک روزہ قومی سمینار اختتام پذیر ہوا۔ سمینار میں متعدد دانشوران، اساتذہ، اور طلبہ و طالبات کے علاوہ قومی اردو کونسل سے ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر،اکیڈمک)، ڈاکٹر مسرت (ریسرچ آفیسر)، ڈاکٹر فیضان الحق (ریسرچ اسسٹنٹ)، ڈاکٹر شاداب شمیم (پروجیکٹ اسسٹنٹ) اور ڈاکٹر صائمہ ثمرین (پروجیکٹ اسسٹنٹ) موجود رہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande