مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کا حصہ توڑے جانے کے خلاف دائر عرضی ہائی کورٹ نے خارج کر دی
اجین، 28 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اجین میں سنگھستھ پروجیکٹ کے لیے سڑک چوڑی کرنے کی زد میں آنے والی شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیے جانے کے خلاف دائر عرضی ہائی کورٹ نے خارج کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران
مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کا حصہ توڑے جانے کے خلاف دائر عرضی ہائی کورٹ نے خارج کر دی


مدھیہ پردیش کے اجین میں شاہی مسجد کا حصہ توڑے جانے کے خلاف دائر عرضی ہائی کورٹ نے خارج کر دی


اجین، 28 ستمبر (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے اجین میں سنگھستھ پروجیکٹ کے لیے سڑک چوڑی کرنے کی زد میں آنے والی شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیے جانے کے خلاف دائر عرضی ہائی کورٹ نے خارج کر دی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے پیر کو سماعت کے دوران تمام فریقوں کا موقف سننے کے بعد ضلع انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی بنیاد پر عرضی کا فیصلہ کر دیا۔

اس معاملے میں متنازع تعمیر کے تقریباً ساڑھے 9 فٹ حصے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تعمیر کو لے کر تنازع سامنے آنے کے بعد متعلقہ فریق کی جانب سے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ پیر کو جسٹس س±بودھ ابھیَنکر اور جسٹس جے کمار پلئی کی ڈویژن بنچ میں سماعت کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ فریقین نے عدالت کے سامنے باہمی رضامندی سے تنازع حل کرنے کی تجویز پیش کی۔ گفت و شنید کے بعد دونوں فریق ایک سمجھوتے پر پہنچے۔ سمجھوتے کے تحت تقریباً تین فٹ حصے کو ہٹانے اور ایک دکان منہدم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

عرضی گزار شاہی مسجد کمیٹی کے وکیل کلدیپ پاٹھک نے بتایا کہ کمیٹی اور انتظامیہ کے درمیان سمجھوتے کے تحت سڑک کے لیے تین فٹ جگہ فراہم کرنے کے ساتھ کچھ دکانیں ہٹانے پر اتفاق ہوا ہے۔ بڑی مینار کو دوسری جانب منتقل کیا جائے گا۔ دکانوں کے لیے دوسری جگہ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سمجھوتے کی مکمل تفصیلات عدالت کے ریکارڈ پر نہیں آ جاتیں، اس وقت تک کام روکا جائے اور سمجھوتے میں طے شدہ شرائط پر عمل کیا جائے۔

اس کے جواب میں دوسرے فریق، یعنی ضلع انتظامیہ کی جانب سے دلیل دی گئی کہ ایسا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ دو ویڈیوز موجود ہیں، جن میں مسجد انتظامیہ خود ڈھانچے کو ہٹاتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ احترام کی وجہ سے ہم اسے خود نہیں ہٹا رہے ہیں۔

عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ شہر قاضی کی ویڈیو میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ سمجھوتہ ہو چکا ہے۔ جس متنازع حصے کی بات کی جا رہی ہے، اس کا فیصلہ وقف بورڈ کو کرنا ہے۔ اس معاملے میں ان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے بھی اس پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا۔ مسجد کے کچھ حصے ہٹانے کی کارروائی کمیٹی خود کر رہی ہے۔

عرضی پر دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ سمجھوتہ ہو چکا ہے، لیکن اس کی اطلاع عدالت کے پاس نہیں ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے اپنے جواب اور نوٹس میں جن شرائط کو قبول کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ان پر عمل کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ضلع انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان ہوئے سمجھوتے کی بنیاد پر معاملے کو نمٹا دیا۔

واضح رہے کہ اجین میں سنگھستھ 2028 کے پیش نظر ماسٹر پلان کے تحت سڑکوں کو چوڑا کرنے کا کام جاری ہے۔ اسی کے تحت سڑک کی توسیع میں رکاوٹ بننے والی تعمیرات کو ہٹانے کی کارروائی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیے جانے کا تنازع بھی اسی کارروائی کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس معاملے میں 9 ستمبر کو ایک عرضی دائر کی گئی تھی، جسے ماسٹر پلان کی سڑک کا حوالہ دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد مسجد کی جانب سے رِٹ اپیل دائر کی گئی، جس پر پیر کو دوپہر کے وقفے کے بعد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ میں سماعت ہوئی۔

ادھر، خبر لکھے جانے تک اجین میں سڑک کو چوڑا کرنے کا کام جاری تھا۔ مسلم برادری کے لوگ خود مسجد کے اس حصے کو ہٹا رہے تھے جو سڑک کی توسیع کے دائرے میں آ رہا ہے۔ اجین کے کمری روڈ علاقے میں سڑک پر پڑے چھوٹے بڑے پتھروں کو میونسپل کارپوریشن کے ملازمین ہٹا رہے تھے۔ شاہی مسجد کے حصے ہٹانے کی کارروائی کے درمیان شام تقریباً چار بجے ای او ڈبلیو کے ڈی جی اپیندر جین موقع پر پہنچے۔ انہوں نے آئی جی راکیش گپتا اور ایس پی پردیپ شرما سے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

بھوپال میں بھی پولیس الرٹ، سوشل میڈیا پر نگرانی

اجین میں پتھراو¿ اور ہنگامے کے پیش نظر بھوپال میں بھی پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہر کے حساس اور انتہائی حساس علاقوں میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ تمام تھانوں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔ پولیس افسران صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ قابل اعتراض یا گمراہ کن پوسٹ کرنے والوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande