بی جے پی اور آر ایس ایس کے بارے میں مبینہ توہین آمیز بیان کے معاملے میں کھرگے کی جانب سے دلائل پیش، اگلی سماعت 14 اکتوبر کو
نئی دہلی، 28 ستمبر (ہ س)۔ دہلی کی راو¿ز ایونیو سیشنز کورٹ میں پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز بیان دینے کے معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے دلائل پی
بی جے پی اور آر ایس ایس کے بارے میں مبینہ توہین آمیز بیان کے معاملے میں کھرگے کی جانب سے دلائل پیش، اگلی سماعت 14 اکتوبر کو


نئی دہلی، 28 ستمبر (ہ س)۔

دہلی کی راو¿ز ایونیو سیشنز کورٹ میں پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز بیان دینے کے معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔ درخواست گزار کی جانب سے دلائل پیش کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 14 اکتوبر کو مقرر کرنے کا حکم دیا۔

پیر کو سماعت کے دوران ملکارجن کھرگے کی جانب سے سینئر وکیل ریبیکا جان نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجسٹریٹ عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کرکے قانون کے مطابق فیصلہ کیا تھا۔ شکایت کنندہ رویندر کمار گپتا کی جانب سے پیش وکیل گگن گاندھی نے اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے وقت طلب کیا، جس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 14 اکتوبر کو مقرر کر دی۔

شکایت کنندہ رویندر کمار گپتا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی عرضی واپس لینا چاہتے ہیں، بشرطیکہ کھرگے اس سلسلے میں تحریری یقین دہانی کرائیں کہ وہ سنگھ کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ نہیں کریں گے۔ اس پر کھرگے کی جانب سے 19 ستمبر کو کہا گیا تھا کہ وہ ایسی کوئی تحریری یقین دہانی دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس سے قبل سماعت کے دوران گگن گاندھی نے کرناٹک ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اس سمن کا حوالہ دیا تھا، جس میں ملکارجن کھرگے کے بیٹے پریانک کھرگے کو سنگھ کے خلاف بیان دینے کے بعد سمن جاری کیا گیا تھا۔ گگن گاندھی نے کہا تھا کہ یہ معاملہ بھی سنگھ کے خلاف بیان دینے سے متعلق ہے، اس لیے اس معاملے میں بھی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست گزار رویندر گپتا نے کہا ہے کہ وہ سنگھ کے رکن ہونے کی حیثیت سے ملکارجن کھرگے کے بیانات سے متاثر اور دل آزردہ ہیں۔ انہوں نے کھرگے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے میں تیس ہزاری عدالت کی مجسٹریٹ عدالت نے کھرگے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد درخواست گزار گپتا نے سیشنز کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

دراصل، 13 دسمبر 2024 کو تیس ہزاری عدالت کی مجسٹریٹ عدالت نے کھرگے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ملکارجن کھرگے راجیہ سبھا کے رکن ہیں، اسی لیے ان کے خلاف اب راو¿ز ایونیو واقع ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande