دیہی علاقوں میں صفائی مہم کو ملے گی نئی رفتار، 2215 بیت الخلاؤں کی پہلی قسط منظور
علی گڑھ, 28 ستمبر (ہ س)۔ چیف ڈیولپمنٹ آفیسر یوگیندر کمار کی صدارت میں پیر کے روز وکاس بھون کے اجلاس ہال میں ضلعی صفائی کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، عوامی شراکت داری بڑھانے، پانی کے تحفظ
دیہی علاقوں میں صفائی مہم کو ملے گی نئی رفتار، 2215 بیت الخلاؤں کی پہلی قسط منظور


علی گڑھ, 28 ستمبر (ہ س)۔

چیف ڈیولپمنٹ آفیسر یوگیندر کمار کی صدارت میں پیر کے روز وکاس بھون کے اجلاس ہال میں ضلعی صفائی کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں دیہی علاقوں میں صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، عوامی شراکت داری بڑھانے، پانی کے تحفظ اور گاؤں کی سطح پر عوامی سہولتوں کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں تفصیلی منصوبۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

میٹنگ میں 2215 بیت الخلاؤں کی پہلی قسط کو منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ 41 اجتماعی بیت الخلاؤں کی دوبارہ تعمیر اور 204 پنچایت گھروں میں مزید ڈیجیٹل کتب خانے قائم کرنے کی تجویز کو بھی منظوری دی گئی۔

چیف ڈیولپمنٹ آفیسر نے تمام اسسٹنٹ ڈیولپمنٹ افسران کو ہدایت دی کہ خصوصی مہم چلا کر مقررہ نظام الاوقات کے مطابق گاؤں میں صفائی کا کام اپنی موجودگی میں یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ صفائی مہم کے دوران کم از کم 20 ملازمین کو بیک وقت فعال رکھا جائے، تاکہ مہم کے مؤثر نتائج سامنے آسکیں۔

انہوں نے دیہی باشندوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے اور صفائی کے فوائد کے بارے میں عوام کو بیدار کرنے پر بھی زور دیا۔ سی ڈی او نے کہا کہ صفائی مہم کو عوامی تحریک کی شکل دینے کے لیے گرام پردھانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔ پروگراموں میں متعلقہ بلاک پرمکھوں کو بھی مدعو کیا جائے، تاکہ عوامی نمائندوں اور دیہی باشندوں کی شراکت سے صفائی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صفائی کے کاموں میں کسی بھی سطح پر لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ میٹنگ کے دوران انہوں نے تمام اے ڈی او پنچایت سے باری باری ان کی کارگزاری اور آئندہ کی منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ضروری رہنمائی بھی فراہم کی۔

پانی کے تحفظ کو ترجیح

پانی کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے سی ڈی او نے زیادہ سے زیادہ تالابوں کی کھدائی کے لیے جلد تخمینہ تیار کرانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ایسے گاؤں کی نشاندہی کرنے کو کہا جہاں بارش کے دوران تالابوں کا پانی اہم آمدورفت کے راستوں پر آجاتا ہے، تاکہ پانی کی نکاسی اور پانی کے تحفظ کے لیے مناسب انتظامات کیے جاسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ درج فہرست ذاتوں کی اکثریت والے گاؤں میں پی ایم اجے اسکیم کے تحت پانی کی نکاسی، شمسی توانائی، پینے کے پانی اور دیگر عوامی مفاد کے کام زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک کی رقم سے کرائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اہل گاؤں میں ضروری کاموں کے لیے جلد منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی۔

سی ڈی او نے کہا کہ دیہی علاقوں میں صفائی، پانی کے تحفظ اور بنیادی عوامی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں، تاکہ سرکاری منصوبوں کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچ سکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande