
نئی دہلی، 27 ستمبر (ہ س) — وزیراعظم نریندر مودی نے آج اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں کہا کہ آئندہ مردم شماری ملک کے ہر شہری کی قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو چیلنج کرنے والوں کو بھارت کرارا جواب دے گا۔ وزیراعظم نے ستمبر 2016 کی سرجیکل اسٹرائیک کو یاد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پالیسی کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر رہنما اشوک سنگھل کی صد سالہ سالگرہ، گجرات کے موڈھیرا سوریا مندر، بھارت کے ثقافتی ورثے اور عوامی شمولیت کی اہمیت پر بھی بات کی۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ کی 138ویں قسط میں آئندہ قومی مردم شماری میں ہر شہری کی شرکت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری محض اعداد و شمار جمع کرنے کا عمل نہیں بلکہ ہر شہری کی قومی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے کہا کہ دہشت گردی پر آنکھ اٹھانے والوں کو بھارت کرارا جواب دے گا۔
وزیراعظم نے 28 اور 29 ستمبر 2016 کو لائن آف کنٹرول کے پار پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی سرجیکل اسٹرائیک کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوئے اور اس سے دہشت گردی کے خلاف بھارت کی پالیسی کا واضح پیغام گیا۔ وزیراعظم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک سے لے کر آپریشن سندور تک دہشت گردی کے خلاف بھارت کی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سینئر رہنما اشوک سنگھل کی صد سالہ سالگرہ کا بھی ذکر کیا۔ اشوک سنگھل کی پیدائش 27 ستمبر 1926 کو آگرہ میں ہوئی تھی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ ان کا خاندان خوش حال تھا اور ان کے والد سول سروس میں تھے۔ ان کے بھائی بہن بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ اشوک سنگھل نے آئی آئی ٹی-بی ایچ یو سے تعلیم حاصل کی، لیکن بعد میں آسائشوں کی زندگی ترک کرکے سماجی اور ثقافتی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اشوک سنگھل نے طویل عرصے تک سماجی اور ثقافتی شعبے میں کام کیا۔ وہ رام جنم بھومی تحریک سے بھی وابستہ رہے۔ انہوں نے سماجی امتیاز اور عدم مساوات جیسے موضوعات پر بھی کام کیا۔ وزیراعظم نے ان کی زندگی کو سماجی اور ثقافتی خدمت کے لیے وقف زندگی کے طور پر یاد کیا۔
وزیراعظم نے گجرات کے موڈھیرا سوریا مندر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مندر کی تعمیر راجا بھیم دیو اول نے 1025ء میں کروائی تھی۔ 1026ء میں محمود غزنوی نے سومناتھ پر حملہ کیا اور موڈھیرا پر بھی حملہ کرکے اسے نقصان پہنچایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ موڈھیرا مندر کی تباہی کو تقریباً ایک ہزار سال گزر چکے ہیں۔ اس کے بعد بھیم دیو نے جدوجہد کی اور مندر کی دوبارہ تعمیر کروائی۔
انہوں نے کہا کہ موڈھیرا سوریا مندر صرف مذہبی عقیدت کا مرکز نہیں بلکہ سورج کی پوجا کے ذریعے روشنی، توانائی اور سائنس سے جڑی ہندوستانی روایت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے موڈھیرا کو ملک کا پہلا ’سولر ولیج‘ (شمسی گاؤں) قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں قدیم ورثے اور سرسبز مستقبل کو آپس میں جوڑنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’من کی بات‘ ملک کے ان پہلوؤں کو سامنے لانے کا ایک پلیٹ فارم ہے جن پر عام طور پر کم گفتگو ہوتی ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے زمینی سطح پر کام کرنے والے لوگوں اور ان کی کامیابیوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی