
پانچ روزہ ورکنگ ویک کے مطالبے کو لے کر بینک ملازمین تین روزہ ہڑتال پر رہیں گے
نئی دہلی، 27 ستمبر (ہ س)۔
سرکاری شعبے کے بینکوں کی یونینوں کی جانب سے پیر سے تین روزہ ملک گیر ہڑتال شروع ہوگی، جس کے باعث چیک کلیئرنس، نقد رقم نکالنے اور جمع کرنے سمیت بینکنگ خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بینک یونینوں نے پانچ روزہ ورکنگ ویک اور دیگر زیر التوا مطالبات کو لے کر اس ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کی اپیل پر تین روزہ بینک ہڑتال 28 ستمبر سے شروع ہو کر 30 ستمبر تک جاری رہے گی۔ یہ ہڑتال ہفتے میں پانچ دن کام کرنے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر کی جا رہی ہے۔ ہڑتال کا بنیادی اثر سرکاری شعبے کے بینکوں، پرانے نجی بینکوں اور علاقائی دیہی بینکوں (آر آر بی) میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم ہڑتال کے دوران ڈیجیٹل بینکنگ اور دیگر آن لائن خدمات معمول کے مطابق جاری رہنے کا امکان ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک اور ایکسس بینک جیسے نجی بینکوں کی شاخیں ان تین دنوں کے دوران کھلی رہیں گی۔
زیادہ تر سرکاری بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں نے اپنے صارفین کو ہڑتال اور اس کے نتیجے میں ممکنہ مشکلات کے بارے میں پہلے ہی مطلع کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے صارفین کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا ہے کہ بینک کی شاخوں اور دفاتر میں ضروری خدمات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی، تاہم ہڑتال کے دوران کچھ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔
بینک ملازمین اور افسران کی سات تنظیموں کی اعلیٰ تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو 26 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جائے گی۔ یونین رہنماو¿ں کے مطابق چیف لیبر کمشنر کے ساتھ حالیہ مفاہمتی اجلاسوں کے دوران حکومت نے پانچ روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنے کے سلسلے میں کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی۔
دریں اثنا، وزارت خزانہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں بینک ملازمین سے ہڑتال کا راستہ اختیار نہ کرنے اور بات چیت کے ذریعے باقی مطالبات حل کرنے کی اپیل کی تھی۔ وزارت نے کہا تھا کہ یونینوں کے زیادہ تر خدشات کا پہلے ہی بڑی حد تک ازالہ کیا جا چکا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ کارکردگی کی بنیاد پر مراعات (پی ایل آئی) اسکیم واپس لینے کے مطالبے پر تفصیلی غور کے بعد اسے اسی ماہ کے آغاز میں ہی ملتوی کر دیا گیا تھا۔
پانچ روزہ بینکنگ کے علاوہ یونینیں کئی دیگر مسائل کے حل کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان میں پنشن کے بینیفیٹ میں بہتری، تمام پنشن یافتگان کے لیے یکساں مہنگائی بھتے (ڈی اے) کا فارمولہ نافذ کرنا اور نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) کے تحت آنے والے ملازمین کو پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) میں واپس جانے کا اختیار دینا بھی شامل ہے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ