
تہران، 26 ستمبر(ہ س)۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کی بحری افواج کے کنٹرول میں ہے اور امریکی فوج اپنی بڑی بحری طاقت کے باوجود اس اہم آبی گزرگاہ کو چند گھنٹوں کے لیے بھی معمول کے مطابق کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
حسین محبی نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ امریکا نے خلیج فارس میں بڑی تعداد میں فوجی طاقت تعینات کرکے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، تاہم اسے توقع کے برعکس ایرانی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی فضائی، بحری اور زمینی افواج سے متعلق مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا کے خلاف کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل امریکی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ایرانی حکام نے امریکا کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے متعدد شرائط سامنے رکھی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان میں فوجی کارروائیاں روکنا، ایران کے خلاف آئندہ حملوں کی ضمانت، لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلا، یمن کا محاصرہ ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام میں عدم مداخلت جیسے مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی حکام نے بعد ازاں ان شرائط کو مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ 23 ستمبر کو حسین محبی نے کہا تھا کہ جون میں طے پانے والی مفاہمت ختم ہونے کے بعد تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط مزید سخت کردی ہیں۔ایرانی مؤقف میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر بند رکھنے کے بجائے مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں اسے دوبارہ کھولنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 25 ستمبر کو کہا کہ اگر امریکا بعض شرائط پوری کردے تو آبنائے ہرمز سات دن کے اندر دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ شرائط نئی نہیں بلکہ پہلے طے پانے والی مفاہمت کی شقوں سے متعلق ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنے کے لیے تیار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan