قطر کے وزیر اعظم بولے: غزہ امن منصوبے میں نیتن یاہو سب سے بڑی رکاوٹ
دوحہ، 26 ستمبر (ہ س):۔ قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے غزہ میں امن کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ منصوبے کو آگے بڑھانے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالث ممال
قطر کے وزیر اعظم بولے: غزہ امن منصوبے میں نیتن یاہو سب سے بڑی رکاوٹ


دوحہ، 26 ستمبر (ہ س):۔

قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے غزہ میں امن کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ منصوبے کو آگے بڑھانے میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالث ممالک معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اسرائیلی حکومت کی مبینہ سرگرمیاں اس عمل میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔

آل ثانی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ نیتن یاہو حکومت کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کی ایک ”طویل فہرست“ موجود ہے۔ ان کے مطابق تمام ثالث اس معاہدے کو نافذ کرانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتِ حال میں نیتن یاہو امن منصوبے کی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

قطر کے وزیر اعظم نے غزہ پر حکمرانی کرنے والی تنظیم حماس کو مالی امداد دیے جانے کے الزامات کو بھی ایک بار پھر مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ نے حماس کے عسکری ونگ کو کبھی مالی امداد فراہم نہیں کی۔ یہ بیان ان حالیہ رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں قطر کی جانب سے غزہ کو دی جانے والی امداد اور اس کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔

آل ثانی نے امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کے ثالثی کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا فریق کی جانب سے آبی گزرگاہوں کا استعمال دوسرے ممالک کی آمد و رفت روکنے یا بحری آمد و رفت کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کیا جانا قابلِ قبول نہیں ہے۔ کسی ملک کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ قطر کسی بھی قسم کی ناکہ بندی یا دباو¿ کی سیاست کی مخالفت کرتا ہے۔

ایران کے ساتھ قطر کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے آل ثانی نے کہا کہ دونوں ممالک ہمسایہ ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان اچھے تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ قطر ایران کے لیے کسی تشویش کا سبب نہ بنے اور ایران بھی قطر کے لیے کسی طرح کی تشویش کا باعث نہ بنے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande