پاکستان-افغان سرحد پر جھڑپ، 13 طالبان جنگجوؤں کے مارے جانے کا دعویٰ
اسلام آباد، 26 ستمبر (ہ س)۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے 24 اور25 ستمبر کی رات گلستان سیکٹر میں سرحد پر حملے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ اس دوران تقریباً 13 افغان طالبان جنگجو مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ میڈی
آپریشن غضب لِل حق


اسلام آباد، 26 ستمبر (ہ س)۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے 24 اور25 ستمبر کی رات گلستان سیکٹر میں سرحد پر حملے کی کوشش کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ اس دوران تقریباً 13 افغان طالبان جنگجو مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔

میڈیا گروپ جیو نیوز نے پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کے حوالے سے بتایا کہ وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں افغانستان کے اس دعوے کو مسترد کیا، جس میں اسپین بولدک کے قریب پاکستانی چوکی کو تباہ کرنے اور افغان فورسز کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچنے کی بات کہی گئی تھی۔ وزارت نے ان دعوؤں کو ’’جھوٹا اور من گھڑت‘‘ قرار دیا۔

وزارت کے مطابق، گلستان سیکٹر میں افغان حملے کی کوشش کو ناکام بنانے کے بعد طالبان کی سرحدی چوکیوں پر جوابی کارروائی کی گئی۔ پاکستان نے اس کارروائی کی ویڈیوز بھی جاری کیں اور انہیں سرحد پر ہوئی جھڑپ اور اس کے بعد کی فوجی کارروائی کا ثبوت بتایا۔

یہ واقعہ اس ہفتے افغانستان سے پاکستان میں ڈرون داخل کرنے کی مبینہ کئی کوششوں کے بعد پیش آیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ان حملوں کے جواب میں پاکستانی فوج نے افغانستان میں 10 مقامات پر درست نشانے والے فضائی اور ڈرون حملے کیے۔

پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرون مار گرائے گئے۔ ان میں چار ڈرون طورخم سرحد کے آس پاس اور چار دیگر کوہاٹ کے قریب پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔

دریں اثنا، پاکستان کی فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا کہ 21 ستمبر سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 33 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ کارروائی ’فتنہ الخوارج‘ کے خلاف چلائے جا رہے انسداد دہشت گردی آپریشن کا حصہ ہے۔ فوج نے کہا کہ گزشتہ 24 ستمبر کو ’آپریشن شبان‘ کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگایا گیا اور فائرنگ کے بعد پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ اس کے ساتھ ہی آپریشن میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد 22 ہو گئی۔

فوج کے مطابق، دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ علاقے سے خطرہ مکمل طور پر ختم ہونے تک آپریشن جاری رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ کہا گیا کہ ملک میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسداد دہشت گردی آپریشن جاری رہے گا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 25 ستمبر کو نوشکی ضلع میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ایک اور آپریشن کیا گیا۔ فوج کے مطابق، اس کارروائی میں 11 دہشت گرد مارے گئے۔

قابل ذکر ہے کہ اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو لے کر کشیدگی بڑھی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال اس کے خلاف حملے کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد مسلسل کابل سے ایسے گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

افغان طالبان انتظامیہ ان الزامات سے انکار کرتی رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی دور کی بات چیت کے باوجود سرحد پار دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق مسائل پر اب تک کوئی مستقل حل نہیں نکل سکا ہے۔

پاکستان نے فروری 2026 میں ’آپریشن غضب لِلحق‘ شروع کیا تھا۔ یہ قدم اکتوبر 2025 میں سرحد کے کئی علاقوں میں ہوئی جھڑپوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ہوئے جنگ بندی معاہدے کے چند ماہ بعد اٹھایا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande