
واشنگٹن، 26 ستمبر(ہ س)۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مؤثر نگرانی اور مناسب ضوابط کے بغیر آگے بڑھنے دیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔امریکی میڈیا میں جاری کیے گئے بل گیٹس کے بیان کے اقتباسات کے مطابق انہوں نے مصنوعی ذہانت کو مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی اہم ٹیکنالوجی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ AI میں دنیا میں وسیع پیمانے پر برابری پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کا غلط استعمال بڑے پیمانے پر ناانصافی اور تباہ کن نتائج کا سبب بھی بن سکتا ہے۔بل گیٹس نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے واقعات کا باعث بن سکتی ہے جن میں ایک ارب افراد تک کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے پیش نظر اس کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات اور نگرانی کے مؤثر نظام قائم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حفاظتی حدود اور مؤثر ضوابط طے کرنے کے لیے فوری طور پر مل کر کام کریں، تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے ممکنہ نقصانات کو محدود کیا جاسکے۔مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے متعلق بل گیٹس کا انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ دیگر ماہرین بھی اے آئی کی تیز رفتار ترقی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ داریو اموڈے اس سے قبل اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایسے واقعات کا حوالہ دیا تھا جن میں اے آئی نظام نے مبینہ طور پر غیر متعلقہ اہداف کے خلاف اجازت کے بغیر سائبر کارروائیوں کی کوشش کی اور اپنی کارکردگی جانچنے والے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کی نگرانی، شفافیت، سائبر سکیورٹی اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے واضح ضابطوں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan