
سینی پتی (منی پور)، 26 ستمبر (ہ س)۔
منی پور کے سینی پتی ضلع کے کالین جانگ علاقے میں ہفتہ کی دوپہر مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دو ناگا شہریوں کو مبینہ طور پر گولی مار کر ہلاک کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کی لاشیں تافو ناگا گاؤں کے قریب سے برآمد ہوئی ہیں، جہاں جائے وقوعہ پر خون کے نشانات بھی ملے۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد ماؤ ناگا برادری سے تعلق رکھتے تھے، تاہم ان کی شناخت کی سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ واقعہ پڑوسی ضلع کامجونگ کے پیلونگ علاقے میں چار تانگ کھل ناگا شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ یہ علاقہ بھارت-میانمار سرحد کے قریب واقع ہے۔ پولیس نے اس حملے میں میانمار میں موجود مشتبہ عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
سینی پتی میں تازہ ہلاکتوں کی خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یونائیٹڈ ناگا کونسل (یو این سی) نے پیلونگ واقعے کے خلاف جاری اقتصادی ناکہ بندی ہفتہ کو ختم کردی۔ تنظیم نے ناگا شہریوں کی ہلاکت کے معاملے میں انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے ناکہ بندی کی تھی۔منی پور کے وزیر اعلیٰ یومنام کھیمن چند سنگھ ہفتہ کو ماؤ علاقے میں موجود تھے۔ انہوں نے مرام واقع ڈان باسکو کالج (خودمختار) کی سلور جوبلی تقریب میں شرکت کی۔ تقریب کا انعقاد ’’ہیریٹیج ٹو ہورائزنز‘‘ کے موضوع پر کیا گیا۔
تازہ واقعے کے بعد منی پور کی سکیورٹی صورتحال کو لے کر ناگا شہری تنظیموں کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ یو این سی کی قیادت میں ناگا شہری تنظیموں کا ایک وفد ہفتہ کو آسام میں مرکزی وزارت داخلہ اور منی پور حکومت کے نمائندوں کے ساتھ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کرنے والا تھا۔ اجلاس میں ریاست کی موجودہ امن و امان کی صورتحال اور قیامِ امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہونا تھا۔سینی پتی میں ہوئی مبینہ ہلاکتوں کے حوالے سے منی پور حکومت یا پولیس کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کا انتظار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan