
نیویارک، 26 ستمبر(ہ س)۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت صحت سے متعلق کوئی خاص مسئلہ درپیش نہیں اور وہ طبی اعتبار سے مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای سے دو مرتبہ بالمشافہ ملاقات کرچکے ہیں، جن میں سے ایک ملاقات سات گھنٹے سے بھی زیادہ جاری رہی۔مسعود پزشکیان نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور ٹانگوں پر جو زخم آئے تھے، وہ اب مندمل ہوچکے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام ’’فیس دی نیشن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل ملاقات کے دوران معمول کے مطابق بیٹھنے اور پوزیشن تبدیل کرنے کے قابل تھے۔ ایرانی صدر، جو خود پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، نے ان کی صحت کو مکمل قرار دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کئی ماہ سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں، جس کے باعث ان کی صحت اور سرگرمیوں سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انہیں فروری میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران مبینہ طور پر چہرے اور ٹانگوں میں شدید چوٹیں آئی تھیں، تاہم ان کی جانب سے اب تک کوئی عوامی تصویر یا براہ راست منظرِ عام پر آنے کی اطلاع نہیں ہے۔ایرانی صدر اس سے قبل بھی مجتبیٰ خامنہ ای کی خیریت کی تصدیق کرچکے ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں ایک انٹرویو میں پزشکیان نے کہا تھا کہ سپریم لیڈر زندہ ہیں اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے ایران کی خارجہ پالیسی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کردار کے بارے میں سوال پر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ فیصلے کسی ایک فرد کے بجائے مختلف ریاستی اداروں کے درمیان مشاورت اور رابطے کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں، سکیورٹی فورسز، پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں کے چھ نمائندوں پر مشتمل ایک ٹیم فیصلوں اور مشاورتی امور پر غور کرتی ہے اور باہمی رابطے کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں۔
پزشکیان نے حالیہ انٹرویو میں امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ امن چاہتا ہے، تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ایران نے حالیہ دنوں میں یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو تہران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز پر ابھی حتمی اتفاق سامنے نہیں آیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan