خواتین یونٹ نے قلات میں پاکستانی فوج کے قافلوں پر حملہ کیا: بی ایل ایف
کوئٹہ، 26 ستمبر (ہ س):۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اس کی حال ہی میں تشکیل دی گئی خواتین کی مسلح یونٹ ’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘ (کے اے اے ڈی) کے ارکان نے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک اہم شاہراہ کو بند کرکے پاکستانی فو
خواتین یونٹ نے قلات میں پاکستانی فوج کے قافلوں پر حملہ کیا: بی ایل ایف


کوئٹہ، 26 ستمبر (ہ س):۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اس کی حال ہی میں تشکیل دی گئی خواتین کی مسلح یونٹ ’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘ (کے اے اے ڈی) کے ارکان نے بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک اہم شاہراہ کو بند کرکے پاکستانی فوج کے قافلوں پر حملہ کیا۔ تنظیم کے مطابق حملے میں کئی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوو¿ں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

بلوچستان کے آن لائن نیوز نیٹ ورک دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق، بی ایل ایف کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ نے کہا کہ کے اے اے ڈی کی خواتین ارکان نے 25 ستمبر کو منگ±چر شہر میں گشت کیا اور مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ان کے مطابق اسی دوران قلات اور مستونگ سے منگوچر میں فوج کی مدد کے لیے بھیجے جانے والے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا۔

تنظیم نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران تین فوجی گاڑیوں کو تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا، جن میں ایک بکتر بند گاڑی بھی شامل تھی۔ بی ایل ایف نے کہا کہ علاقے میں جھڑپ جاری ہے اور ہلاکتوں اور نقصانات سے متعلق مزید معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے منگوچر میں مبینہ جھڑپ یا بی ایل ایف کی جانب سے بتائے گئے فوجی نقصان کی فوری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

بی ایل ایف نے یہ دعویٰ کاڈ کے قیام کا اعلان کیے جانے کے چند روز بعد کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ خواتین یونٹ کی دوسری مبینہ کارروائی ہے۔ اس سے قبل منگل کو بی ایل ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ کاڈ کے ارکان نے تربت کے قریب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ایک شاہراہ پر پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

اس کے بعد بی ایل ایف نے مبینہ طور پر خواتین یونٹ کی تربیت کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، جس میں اس کی ارکان کو ہتھیار چلانے اور فوجی تربیت حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

بی ایل ایف کے مطابق کاڈ کی خواتین جنگی کارروائیوں کے علاوہ انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، مواصلات، طبی امداد اور لاجسٹکس سے متعلق کاموں میں بھی کردار ادا کریں گی۔ تنظیم نے اس یونٹ کے قیام کو اپنے فوجی ڈھانچے میں خواتین کی منظم شمولیت کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande