
نئی دہلی، 25 ستمبر(ہ س)۔
کانگریس کے میڈیا شعبے کے صدر پون کھیڑا نے جمعہ کو خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ’وی آئی پی‘ ووٹروں کے لیے الگ انتظام کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سوال اٹھائے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں ایس آئی آر کے ذریعے 13 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا ہے اور دہلی میں الیکشن کمیشن نے عام ووٹروں اور ’وی آئی پی‘ ووٹروں کے لیے الگ الگ انتظامات کیے ہیں۔
پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کھیڑا نے کہا کہ ایک ویب سائٹ کی رپورٹ میں ایس آئی آر سے وابستہ افسران کو ’وی آئی پی‘ ووٹروں کی شناخت کرنے کی ہدایت دیے جانے اور ایک اخبار کی رپورٹ میں بی ایل او ایپ میں ’مارک وی آئی پی‘ سہولت شامل کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل او ایپ میں یہ سہولت 30 جولائی کو شامل کی گئی تھی، جس کے ذریعے بوتھ لیول افسران (بی ایل او)تصدیق کے دوران کسی ووٹر کو ’وی آئی پی‘ کے طور پر نشان زد کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد اس اندراج کی جانچ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او)، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) اور دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی سطح پر کی جاتی ہے۔کھیڑا کے مطابق، الیکشن کمیشن کے مارچ 2023 کے مینوئل میں اراکین پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، مقررہ عہدوں پر فائز افراد اور فن، ثقافت، صحافت، کھیل، عدلیہ اور عوامی خدمات سے وابستہ بعض افراد کو ’مارکڈ الیکٹرز‘ کے طور پر نشان زد کرنے کی گنجائش بتائی گئی ہے۔
کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار نے دیگر دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کو نظرانداز کیا اور الیکشن کمیشن کو یک طرفہ طور پر چلایا۔ انہوں نے کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب چیف الیکشن کمشنر کو اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ ایک انگریزی اخبار نے 25 ستمبر کو شائع اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الیکشن کمیشن کے بوتھ لیول افسران کے استعمال میں آنے والی بی ایل او ایپ میں ’مارک وی آئی پی‘ نام کا نیا فیچر شامل کیا گیا ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے افسران کے مطابق یہ فیچر 30 جولائی کو ایپ میں شامل کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ایس آئی آر کے دوران بعض ووٹروں کو ’وی آئی پی‘ کے طور پر نشان زد کرنے کی سہولت اس میں موجود ہے۔اس سے قبل ایک دوسرے انگریزی اخبار نے 23 ستمبر کی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ الیکشن کمیشن کے تین میں سے دو کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کمیشن کے فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے تھے۔رپورٹ میں نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، ووٹر ڈیٹا بیس کو مرکزی سطح پر مربوط کرنے اور ایس آئی آر سے متعلق دیگر امور پر اعتراضات کا ذکر کیا گیا تھا۔ اسی رپورٹ کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر سمیت کمیشن کے تمام فیصلے تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے لیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan