
نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو اعلیٰ عدالت کی سرکاری زبان کے طور پر ہندی کے استعمال کا مطالبہ کرنے والی مفادِ عامہ کی عرضی خارج کر دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس طرح کی تبدیلیاں عدالت کے حکم سے نہیں کی جا سکتیں، بلکہ ان کے لیے بتدریج اور مرحلہ وار اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ بھی اسی سمت میں کام کر رہا ہے۔
برہمیشور ناتھ مشرا کی جانب سے دائر مفادِ عامہ کی عرضی میں مرکزی حکومت کو ایک کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو سپریم کورٹ کی سرکاری زبان کے طور پر ہندی کو اپنانے کے سلسلے میں سفارشات پیش کرے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ زبان سے متعلق اصلاحات پہلے ہی انتظامی سطح پر کی جا رہی ہیں اور انہیں عدالتی احکامات کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
مشرا کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے دلیل دی کہ مرکزی حکومت کو ایسا کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کی حمایت میں آئین کی متعدد دفعات کا حوالہ بھی دیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی زبان سے متعلق اصلاحات بتدریج اور مرحلہ وار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم فی الحال تمام رپورٹس کا مختصر خلاصہ ہندی میں فراہم کر رہے ہیں۔ ہم دوسری علاقائی زبانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کریں گے۔‘‘
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی اصلاحات عدالتی احکامات کے ذریعے نافذ نہیں کی جا سکتیں، بلکہ انہیں مختلف مراحل میں بتدریج نافذ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال عدالت بھی اسی طریقہ کار پر عمل کر رہی ہے۔
بنچ نے کہا کہ جس نوعیت کی تبدیلی کا مطالبہ عرضی میں کیا گیا ہے، اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ اس کے باوجود وکیل نے کم از کم کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت جاری کرنے پر زور دیا، تاہم بنچ نے عرضی خارج کر دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan