
نئی دہلی، 25 ستمبر (ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے میٹا کو سوشل میڈیا پر ایک خاتون کے خلاف پوسٹ کیے گئے قابل اعتراض مواد کو 24 گھنٹے کے اندر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس مواد میں خاتون کی تصویر کو وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ جوڑ کر تبدیل کیا گیا ہے۔ جسٹس گریش کتھپالیا کی بنچ نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماو¿ں سورَو داس، ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا اور رتنا سنگھ پر قابل اعتراض مواد گردش کرانے کا الزام عائد کرنے والی خاتون کی عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک خاتون سے متعلق نہیں ہے بلکہ ملک کے وزیراعظم کی شبیہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس معاملے میں یقینی طور پر کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دہلی پولیس اس معاملے میں پوری حساسیت کے ساتھ کارروائی کرے۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کے وکیل امیش شرما نے عدالت کو بتایا کہ سی جے پی کے مظاہرے کے دوران خاتون کی تصویر کو تبدیل کرکے انٹرنیٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا، لیکن دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے کے علاوہ کوئی دوسری کارروائی نہیں کی۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ سی جے پی رہنماو¿ں نے اے آئی کے ذریعے متعلقہ خاتون کی قابل اعتراض تصویر تیار کرکے اسے اپ لوڈ کیا۔ اس تصویر کو اپ لوڈ کرنے سے قبل عرضی گزار سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔ عرضی گزار نے دہلی پولیس کے سائبر سیل میں بھی شکایت کی، لیکن سائبر سیل بھی اس تصویر کو ہٹوا نہیں سکا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ عرضی گزار کی عزت اور رازداری کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں ایک ہفتے کے اندر اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 14 اکتوبر کو ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ