اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکیہ کے مؤقف کی مخالفت، اسرائیل کا واک آؤٹ
نیویارک، 23 ستمبر (ہ س)۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں ایک سخت خطاب کرتے ہوئے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ اس سے ناراض اسرائیلی وفد واک آؤٹ کر گیا، جبکہ فلسطینی نما
UN-General-Assembly-Trkiye-


نیویارک، 23 ستمبر (ہ س)۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں ایک سخت خطاب کرتے ہوئے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ اس سے ناراض اسرائیلی وفد واک آؤٹ کر گیا، جبکہ فلسطینی نمائندوں نے تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا۔ اردوان نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلسل کیے جا رہے جنگی جرائم اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں اور تشدد میں اضافے کا معاملہ اٹھایا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے کہا، ”امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت سے ہم نے جنگ بندی میں تعاون کیا۔ لیکن اس نام نہاد جنگ بندی کے باوجود غزہ میں 1300 سے زائد عام شہریوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں نے اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو قبول کر لیا ہے، لیکن اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائی بند نہیں کر رہا ہے۔

اردوان نے کہا، ”ہم ایسی نسل کش ذہنیت کا سامنا کر رہے ہیں جس کا خون خرابے سے کبھی پیٹ نہیں بھرتا۔ انسانیت، رحم یا ضمیر رکھنے والا کوئی بھی شخص اس سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔“ اردوان نے اقوام متحدہ (یو این) پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنازعات والے علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اکیاسی (81) سال پہلے دنیا میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ قائم کیا گیا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ یو این اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔“

اردوان نے کہا کہ یو این غیر مو¿ثر ہو گیا ہے اور فلسطین، لبنان اور سوڈان میں اس کی حالت بہت خراب ہو گئی ہے۔ اردوان نے عالمی رہنماو¿ں کے یو این اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس کی عدم موجودگی کا بھی ذکر کیا، کیونکہ امریکہ نے فلسطینی رہنما کو ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ایسا دو سال میں دوسری مرتبہ ہوا ہے۔

اردوان نے کہا، ”اگرچہ صدر عباس آج ہمارے ساتھ موجود نہیں ہیں، لیکن ہم فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ملک مانتے ہیں اور اس کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔“ ترکیہ کے صدر نے یوکرین پر روس کی جنگ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب اس تنازعے کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہماری دلی خواہش ہے کہ یوکرین کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے یوکرین-روس جنگ کو ختم کیا جائے۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande