
نیویارک، 23 ستمبر (ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایرانی حکام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے ساتھ تین گھنٹے تک بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد ایک اور ملاقات ہوگی۔ وٹکاف نے کہا کہ ملاقات اچھی رہی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر اتفاق کے لیے ہونے والی ملاقات کے بعد اس نوعیت کا پہلا رابطہ تھا۔
دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ وٹکاف کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ان کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے اور قطر کے سفارت کاروں نے اس میں ثالثی کی۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ کم کرنے پر آمادہ ہو جائے تو بات بن سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات سخت شرائط رکھی تھیں۔ ان میں تمام محاذوں پر امریکی جنگ ختم کرنا اور پابندیوں سمیت ایران کے خلاف تمام جارحانہ کارروائیاں روکنا شامل تھا۔
اس دوران ایک ایرانی عہدیدار نے جاپانی خبر رساں ایجنسی کیوڈو کو بتایا کہ یہ نیا مؤقف ان شرائط میں سے کچھ میں نرمی سے متعلق ہوگا۔ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ اس مؤقف کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ملک کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل پہلے ہی منظوری دے چکے ہیں۔ تاہم، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے قریب سمجھے جانے والے اہم ایرانی میڈیا نے کسی نئے مؤقف کو اختیار کیے جانے کی تردید کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد