ڈوسو انتخابات کے نتائج پر بی جے پی کا راہل گاندھی پر حملہ، کہا: منفی سیاست کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں
نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س):۔ دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) کے انتخابات میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جیت کے بعد بی جے پی کے قومی میڈیا کے معاون کنوینر سدھارتھ یادو نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ا
ڈوسو انتخابات کے نتائج پر بی جے پی کا راہل گاندھی پر حملہ، کہا: منفی سیاست کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں


نئی دہلی، 19 ستمبر (ہ س):۔

دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈوسو) کے انتخابات میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جیت کے بعد بی جے پی کے قومی میڈیا کے معاون کنوینر سدھارتھ یادو نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اے بی وی پی کی جیت دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کا واضح اور بڑا عوامی فیصلہ ہے۔

سدھارتھ یادو نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انتخابی نتائج میں دہلی یونیورسٹی کے طلبہ نے راہل گاندھی، کانگریس اور اس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کو بڑا صفر دے دیا ہے۔

تین عہدوں، یعنی صدر، سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدوں پر اے بی وی پی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ یہاں تک کہ نائب صدر کے عہدے پر بھی طلبہ نے این ایس یو آئی کو پسند کرنے کے بجائے آزاد امیدوار کا ساتھ دینا پسند کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ راہل گاندھی کی جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈے کی سیاست کی جو دکان ہے، اس کا شٹر آج دہلی یونیورسٹی کے طلبہ نے گرا دیا ہے۔

ڈوسو انتخابات دنیا کے سب سے بڑے طلبہ یونین انتخابات میں سے ایک ہیں اور یہ راہل گاندھی کی سیاست کے لیے ’لٹمس ٹیسٹ‘ کی مانند تھے۔ ان کے مطابق، ان انتخابات کے نتائج راہل گاندھی کے لیے ’حقیقت کا سامنا‘ کرنے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عوامی فیصلہ بالکل واضح کر دیتا ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ اور ملک کے نوجوان قوم پرستانہ نظریے کے ساتھ بڑی اکثریت سے کھڑے ہیں۔ وہ طلبہ تنظیم کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کھڑے ہیں اور منفی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande