
چنڈی گڑھ، 18 ستمبر (ہ س)۔ بی جے پی رہنما اور سابق مرکزی وزیر رویندر سنگھ بٹو کے پٹھان کوٹ جاتے وقت ان کے قافلے پر حملہ کیے جانے کی اطلاع ہے۔ بٹو بی جے پی کی ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کے لیے پٹھان کوٹ جا رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سکیورٹی ٹیم نے تین افراد کو پکڑا ہے، جن کے عام آدمی پارٹی سے وابستہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
بٹو نے الزام لگایا کہ مقامی رکن اسمبلی شیری کلسی نے ان کی یاترا روکنے کے لیے ان افراد کو بھیجا تھا۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے واقعے کی تحقیقات کرانے اور سیاسی رہنماؤں و کارکنوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کے لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ اور ڈی جی پی ذمہ دار ہوں گے۔ تاہم پولیس نے اپنی رپورٹس میں ان الزامات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
بی جے پی کی ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کا جمعہ کو پٹھان کوٹ سے آغاز ہونا ہے۔ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین بھی افتتاحی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس یاترا کو پنجاب کے تمام 117 اسمبلی حلقوں تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔
اس سے قبل 10 ستمبر کو پنجاب بی جے پی کے صدر کیول سنگھ ڈھلون کے قافلے کو سنگرور ضلع کے تور بنجارہ گاؤں جاتے وقت روکے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ بی جے پی نے الزام لگایا تھا کہ عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے ان کی گاڑی روک کر حملہ کیا۔ اس وقت ڈھلون کے ساتھ من پریت سنگھ بادل، سنیل جاکھڑ اور اشونی شرما بھی موجود تھے۔
گزشتہ بدھ کو ہوشیارپور کے باریاں کلاں گاؤں میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کے خلاف منعقدہ احتجاج کے دوران بی جے پی اور بہوجن سماج پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ اس دوران سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما وجے سامپلا زخمی ہوگئے۔ رپورٹس کے مطابق سامپلا کے چہرے کے قریب چوٹ لگی اور ناک سے خون آیا، جبکہ گردن پر خراشیں بھی آئیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan