شمال مشرقی بھارت کے نسلی جنگجو گروپوں کو تربیت دینے کے الزام میں امریکی شہری وین ڈائیک کو ضمانت
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج پرشانت شرما نے بھارت آکر شمال مشرقی علاقوں کے نسلی جنگجو گروپوں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار امریکی شہری میتھیو آرون وین ڈائیک کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور ا
شمال مشرقی بھارت کے نسلی جنگجو گروپوں کو تربیت دینے کے الزام میں امریکی شہری وین ڈائیک کو ضمانت


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج پرشانت شرما نے بھارت آکر شمال مشرقی علاقوں کے نسلی جنگجو گروپوں کو تربیت دینے کے الزام میں گرفتار امریکی شہری میتھیو آرون وین ڈائیک کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ضمانتی کی بنیاد پر رہائی کا حکم دیا۔

عدالت نے 17 ستمبر کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو نوٹس جاری کیا تھا۔ این آئی اے نے 8 ستمبر کو داخل کی گئی چارج شیٹ میں سات غیر ملکی ملزمان کے خلاف فارنرز ایکٹ کی دفعات 21 اور 23 کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ ان میں وین ڈائیک کے علاوہ یوکرین کے چھ شہری پیٹرو ہربا، ٹرس سلیویاک، ایوان سُکمانووسکی، میریون اسٹیفانکیو، ماسکیم ہونچارک اور وکٹر کامنسکی شامل ہیں۔

این آئی اے نے اس معاملے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی، تاہم چارج شیٹ میں یو اے پی اے کی دفعات شامل نہیں کی گئی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق اس معاملے میں ایک ضمنی چارج شیٹ بھی داخل کی جائے گی۔

این آئی اے کا الزام ہے کہ چھ یوکرینی شہری اور ایک امریکی شہری غیر ملکی ویزے پر بھارت آئے اور بعد میں محفوظ علاقے میزورم میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد وہ میانمار پہنچے، جہاں انہوں نے نسلی جنگجو گروپوں سے رابطہ کیا۔ ایجنسی کے مطابق انہیں میانمار میں تربیت دی گئی اور بعد میں انہوں نے ان گروپوں کو تربیت فراہم کی، جن کے تعلقات بھارت میں سرگرم باغی گروپوں سے بتائے گئے ہیں۔ ان پر یورپ سے ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ لانے کا الزام بھی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande