
صنعائ،18ستمبر(ہ س)۔یمن کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی یمن کے ضلع الوازعیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثی گروپ کے کم از کم 30 جنگجو ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یمنی فوج کے مطابق کارروائیوں میں حوثیوں کی گاڑیوں، جنگجوؤں کے اجتماع اور رسد کے راستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ترک خبر ایجنسی کے مطابق یمنی سرکاری فورسز اور حوثیوں کے درمیان مغربی تعز کے علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ یمنی فوج کے ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ الوازعیہ کے محاذ پر فضائی حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیاں بھی کی گئیں، جن کے دوران حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں اور نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔یمنی فوج نے اس سے قبل بھی تعز اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا کے اطراف حوثیوں کی رسد لائنوں اور تعیناتی کے مقامات پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم میدانِ جنگ سے متعلق فریقین کے دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔دوسری جانب حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں 37 فضائی حملے کیے۔ ان کے مطابق حملوں میں تعز اور حجہ صوبوں کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب کی جانب سے حوثی ذرائع کے اس مخصوص دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں سے مملکت کے مختلف علاقوں میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جبکہ ریاض نے ان حملوں کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔حالیہ کشیدگی میں مکہ مکرمہ کے قریب مبینہ ڈرون حملے کا معاملہ بھی اہم بن گیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے مکہ کے قریب آنے والے حوثی ڈرون کو فضا میں روک دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے سعودی دعوے کو مسترد کیا ہے۔17 ستمبر کو سعودی حکام کے مطابق طائف کے علاقے میں ایک روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ یہ حالیہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب میں اعلان کردہ پہلی ہلاکت تھی۔حالیہ لڑائی کے باعث یمن میں انسانی بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز سے اب تک تقریباً 18 ہزار خاندان، یعنی ایک لاکھ 25 ہزار افراد، لڑائی کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ بعض متاثرین بحیرہ احمر کے راستے بھی محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں لڑائی نے باب المندب آبنائے کے ذریعے ہونے والی بحری آمدورفت اور خطے کی توانائی کی رسد کے حوالے سے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan