
تہران،18ستمبر(ہ س)۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو چین اور روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے اس اقدام کو کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون کے دفاع کی جانب اہم قدم قرار دیا۔باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ چین اور روس کے ویٹو نے سلامتی کونسل کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی کے اصول کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ ان کے مطابق کسی ایک طاقت یا گروپ کی جانب سے عالمی اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی اسپیکر نے کہا کہ وہ یک قطبی عالمی نظام جس میں ایک فریق اپنی طاقت اور دباؤ کے ذریعے دوسرے فریق سے سیاسی یا دیگر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور مساوی حیثیت کے احترام پر زور دیا۔قالیباف نے مزید کہا کہ یک طرفہ طرز عمل اور کسی ایک فریق کی ترجیحات کو پوری عالمی برادری پر مسلط کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مسائل کا حل باہمی تعاون، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران سے متعلق امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی نگرانی کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی۔ قرارداد میں ایران سے متعلق ماہرین کے ایک آزاد پینل کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز شامل تھی۔اس پینل کی ذمہ داری ایران سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنا، اپنی تحقیقات اور مشاہدات سے 15 رکنی سلامتی کونسل کو آگاہ کرنا اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائی کے لیے سفارشات پیش کرنا تھی۔
تاہم قرارداد کو چین اور روس نے ویٹو کر دیا، جس کے باعث اسے سلامتی کونسل سے منظوری نہیں مل سکی۔ چین اور روس کا یہ اقدام ایران کے لیے سفارتی سطح پر اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ تہران نے بھی دونوں ممالک کے موقف کا خیرمقدم کیا ہے۔ایرانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف یک طرفہ پابندیاں اور دباؤ بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں ہیں۔ دوسری جانب امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر علاقائی معاملات کے حوالے سے دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر قائم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan