
جے پور، 18 ستمبر (ہ س)۔ راجستھان میں مانسون رخصت ہونے سے پہلے ایک بار پھر اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ جمعرات کو کئی اضلاع میں موسلا دھار بارش کے بعد جمعہ کو بھی محکمہ موسمیات نے ریاست کے 28 اضلاع میں شدید بارش کا ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔ اجمیر، جے پور، سوائی مادھوپور، کرولی اور ناگور سمیت کئی علاقوں میں بادل جم کر برسے۔ کہیں تقریباً چار انچ تک بارش ہوئی تو کہیں سڑکیں پانی سے لبریز ہوگئیں۔ بارش کے ساتھ چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں نے گرمی اور حبس سے پریشان لوگوں کو بڑی راحت پہنچائی۔
جمعرات کی بارش نے کئی شہروں کی صورت ہی بدل دی۔ جے پور کے قدیم علاقوں میں سڑکیں زیر آب نظر آئیں، جبکہ سیکر کی نول گڑھ روڈ پر بھی پانی جمع ہوگیا۔ دن بھر بادلوں کی آمدورفت اور وقفے وقفے سے بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا۔ طویل عرصے سے گرمی کا سامنا کر رہے لوگوں نے اچانک بدلے موسم سے راحت کی سانس لی۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جے پور، بھرت پور، اجمیر اور بیکانیر ڈویژن کے علاوہ کوٹا، جودھ پور اور ادے پور ڈویڑن کے بعض علاقوں میں اچھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ سوائی مادھوپور، کرولی، ناگور، اجمیر اور جے پور میں تقریباً چار انچ تک بارش ہوئی۔ بھیلواڑہ، بوندی، ٹونک، جھنجھنو اور بیکانیر میں بھی تقریباً دو انچ بارش درج کی گئی۔
شدید بارش اور ہواؤں کا براہ راست اثر درجہ حرارت پر پڑا۔ ریاست کے کئی شہروں میں دن کے درجہ حرارت میں دو سے سات ڈگری سیلسیس تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ پلانی، سری گنگانگر، چورو، بیکانیر، ناگور، فتح پور، جھنجھنو اور اجمیر میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ بارش کے بعد موسم نے ایسی کروٹ لی کہ گرمی کی شدت اچانک کم ہوگئی۔
ریاست کے مشرقی اور وسطی حصوں میں بارش سے لوگوں کو راحت ضرور ملی ہے، لیکن مغربی راجستھان کی صورت حال مختلف ہے۔ رواں مانسون سیزن میں اب تک ریاست میں معمول سے تقریباً 25 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ مغربی راجستھان کے کئی علاقوں میں بارش کی کمی کے باعث خشک سالی جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں اور یہاں دن کا درجہ حرارت اب بھی 38 سے 40 ڈگری سیلسیس کے آس پاس ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق راجستھان میں بارش کا یہ سلسلہ زیادہ طویل رہنے کا امکان نہیں ہے۔ 19 ستمبر سے ریاست میں بارش کی سرگرمیوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان سے مانسون کی واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہوسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد