
اے سی بی نے بدعنوانی کے تین معاملات میں مقدمہ درج کیا
جموں، 18 ستمبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے غیر متناسب اثاثے رکھنے اور سرکاری غذائی اجناس کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں سرکاری ملازمین و افسران کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ اے سی بی نے پہلے معاملے میں موٹر وہیکل محکمہ جموں کے ملازم اشونی کمار کے خلاف پولیس اسٹیشن اے سی بی جموں میں مقدمہ درج کیا ہے۔ الزام ہے کہ اشونی کمار نے اپنے معلوم ذرائع آمدن سے زائد منقولہ و غیر منقولہ اثاثے اپنے اور اہل خانہ کے نام پر جمع کیے۔ تفتیش کے دوران دکانوں، پلاٹوں، فلیٹوں اور مہنگی گاڑیوں سمیت متعدد اثاثوں کا پتہ چلنے کے بعد عدالت سے تلاشی وارنٹ حاصل کرکے ونےاک نگر، مٹھی جموں میں واقع اس کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی۔
دوسرے معاملے میں اے سی بی بارہمولہ نے شیبا عنایت، جے کے اے ایس کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ اے سی بی کے مطابق زیرِ تفتیش اثاثوں میں بینک بیلنس، ایف ڈی آرز، ایل آئی سی پالیسیاں، زیورات، پانچ منزلہ تجارتی شاپنگ کمپلیکس اور بارہمولہ، گلمرگ، کریری اور چوواڈی جموں میں اراضی شامل ہے۔ عدالت سے تلاشی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ اور دفتر کی تلاشی لی گئی، جہاں سے مبینہ طور پر اہم مواد ضبط کیا گیا۔
تیسرا مقدمہ بھی شیبا عنایت اور محکمہ صارفین امور و عوامی تقسیم کے اُس وقت کے سیلز مین محمد شفیع راتھر عرف کندامان سمیت دیگر سرکاری ملازمین کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ جون 2013 سے جون 2015 کے دوران سرکاری غذائی اجناس کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔ اے سی بی کے مطابق تصدیق کے دوران غذائی اجناس کی مبینہ خردبرد، تقسیم اور مستحقین کے ریکارڈ میں ردوبدل اور سرکاری رقم جمع کرانے میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔
تحقیقات میں اے پی ایل اور بی پی ایل/اے اے وائی زمروں کے درمیان 26.32 لاکھ روپے مالیت کی اجناس کی مبینہ منتقلی، 16,763.77 کوئنٹل اجناس کی کمی، جس کی مالیت تقریباً 1.67 کروڑ روپے ہے، جبکہ 6,120.13 کوئنٹل اجناس سے متعلق تقریباً 61.20 لاکھ روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی۔ اے سی بی کے مطابق سرکاری خزانے کو ممکنہ طور پر 6.74 لاکھ روپے کا نقصان بھی ہوا، جبکہ 2014 کے سیلاب کے دوران راشن کارڈز اور خاندانوں کی تعداد میں غیر معمولی تبدیلیاں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ مجموعی مبینہ نقصان کا تخمینہ 2.61 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ اے سی بی نے تینوں مقدمات میں تلاشی کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مزید تحقیقات شروع کردی ہیں، جو تاحال جاری ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر