لشکر طیبہ سے وابستہ گرفتار تین او جی ڈبلیو پر پیر پنجال سے شوپیان تک سہولت فراہم کرنے کا الزام
لشکر طیبہ سے وابستہ گرفتار تین او جی ڈبلیو پر پیر پنجال سے شوپیان تک سہولت فراہم کرنے کا الزام جموں، 18 ستمبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر پولیس نے لشکر طیبہ سے وابستہ تین اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا ہے، جن پر کئی برسوں سے راجوری اور ری
لشکر طیبہ سے وابستہ گرفتار تین او جی ڈبلیو پر پیر پنجال سے شوپیان تک سہولت فراہم کرنے کا الزام


لشکر طیبہ سے وابستہ گرفتار تین او جی ڈبلیو پر پیر پنجال سے شوپیان تک سہولت فراہم کرنے کا الزام

جموں، 18 ستمبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر پولیس نے لشکر طیبہ سے وابستہ تین اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا ہے، جن پر کئی برسوں سے راجوری اور ریاسی سے جنوبی کشمیر کے شوپیاں تک دہشت گردوں کی نقل و حرکت میں سہولت کاری اور انہیں لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت راجوری کے کوٹ چروال گاؤں کے رہائشی محمد اعظم، ذاکر حسین اور محمد مشتاق کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں کو 14 ستمبر کو لشکر طیبہ سے منسلک مبینہ لاجسٹک سپورٹ نیٹ ورک کا سراغ ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ملزمان گزشتہ کئی برسوں سے سرگرم تھے اور متعدد دہشت گرد گروپوں کو پناہ اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے ساتھ راجوری، ریاسی، پیر پنجال خطے سے ہوتے ہوئے شوپیاں تک ان کی نقل و حرکت میں سہولت کاری کرتے تھے۔ترجمان کے مطابق 2023 میں ریاسی کے چسانہ علاقے میں تصادم کے دوران مارے گئے دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی نقل و حرکت میں مدد فراہم کرنے میں بھی ملزمان کا مبینہ کردار سامنے آیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتاری کے فوراً بعد ملزمان کی نشاندہی پر ان کے گاؤں سے ملحقہ جنگلات سے ایک طاقتور آئی ای ڈی برآمد کیا گیا، جبکہ جمعرات کو ان کے ٹھکانے سے ایک پستول، میگزین، گولہ بارود اور دو چینی دستی بم بھی برآمد کیے گئے۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ ملزمان دہشت گردوں کی نقل و حرکت میں گائیڈ کے طور پر کام کرنے کے علاوہ راجوری ضلع میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے متعدد اہم حملوں سے وابستہ دہشت گردوں کو زمینی سطح پر مدد فراہم کرنے میں بھی مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملزمان کے حوالے محفوظ رکھنے اور مستقبل میں ممکنہ حملوں میں استعمال کے لیے کیا گیا تھا۔ پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ پورے نیٹ ورک کا پردہ فاش، مزید ساتھیوں کی شناخت اور ملزمان کے کردار کی مکمل تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande