
کولکاتا، 18 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کے بانکورہ ضلع کے کینجاکوڑا کی مشہور جمبو جلیبی اپنے بڑے سائز اور منفرد ذائقے کی وجہ سے برسوں سے پورے راڑھ بنگال میں اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ خاص طور پر بھادَر سنکرانتی، بھادو اتسو اور وشوکرما پوجا کے موقع پر اس جلیبی کی مانگ کافی بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، اس بار مہنگائی کی مار نے اس روایتی جلیبی کے کاروبار کو متاثر کیا ہے۔ کبھی ایک جلیبی کا وزن 15 سے 20 کلوگرام تک ہوا کرتا تھا، لیکن آہستہ آہستہ اس کا سائز اور وزن کم ہوتا گیا۔ اس بار تقریباً ڈھائی سے تین کلوگرام وزن کی جلیبی ہی تیار کی جا رہی ہے، جبکہ گزشتہ برسوں میں چار سے پانچ کلوگرام تک کی جلیبی بھی بنائی جاتی تھی۔
کاروباریوں اور کاریگروں کے مطابق اس سال چینی سمیت جلیبی بنانے میں استعمال ہونے والے تقریباً تمام خام مال کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر جلیبی کی قیمت پر پڑا ہے۔ قیمت بڑھنے کے باعث اس بار صارفین کی مانگ اور پہلے سے ملنے والے آرڈروں میں بھی کمی آئی ہے۔ کاریگروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے اس بار کاروبار میں مندی نظر آ رہی ہے۔
کینجاکوڑا کی اس جمبو جلیبی کی مانگ صرف بانکوڑہ تک محدود نہیں ہے۔ مغربی بنگال کے مختلف علاقوں کے علاوہ پڑوسی ریاستوں بہار، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے کئی مقامات سے بھی لوگ پہلے سے جلیبی کے آرڈر دیتے رہے ہیں۔ تاہم، اس سال مہنگائی کے باعث ان آرڈروں میں بھی کمی آئی ہے۔ کاریگروں کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہ راست اثر کاروبار پر پڑا ہے۔
اس کے باوجود کینجاکوڑا کے لوگوں نے اپنی روایت اور ورثے کو ترک نہیں کیا ہے۔ مقامی لوگ اپنے خاندان کے لیے جلیبی خریدنے کے ساتھ ساتھ رشتہ داروں اور جاننے والوں کے گھروں پر بھی اسے بھیج رہے ہیں۔ وشوکرما پوجا اور بھادو پوجا سے ایک روز قبل ہی جمبو جلیبی کی دکانوں پر خریداروں کی بھیڑ نظر آنے لگی ہے۔ تاہم، دکانداروں کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے اس بار خریداروں کی تعداد تقریباً نصف رہ گئی ہے۔
کینجاکوڑا کی یہ خاص جمبو جلیبی بیسن، میدہ اور چاول کے آٹے سمیت دیگر اجزا سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کے مصنوعی رنگ کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ کاریگر اسے تیل میں تل کر ہی اس کا دلکش رنگ اور ذائقہ پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کا سائز پہلے کے مقابلے میں چھوٹا ہوگیا ہے، لیکن کینجاکوڑا کی اس روایتی جلیبی کی کشش آج بھی برقرار ہے اور تہواروں کے موقع پر لوگ اس کی مٹھاس کا ذائقہ چکھنے کے لیے دکانوں کا رخ کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد