اسپیم کال اور غیر مطلوبہ پیغامات پر سختی، ٹرائی نے ضوابط میں کی بڑی تبدیلیاں
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ٹیلی مواصلات سے متعلق ہندوستان کی انضباطی اتھارٹی(ٹرائی) نے اسپیم کال اور غیر مطلوبہ تجارتی پیغامات (یو سی سی) پر روک لگانے کے لیے ضوابط میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے ضابطوں کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ن
TRAI-UCC-SPAM-CALLS-NEW-RULES


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ ٹیلی مواصلات سے متعلق ہندوستان کی انضباطی اتھارٹی(ٹرائی) نے اسپیم کال اور غیر مطلوبہ تجارتی پیغامات (یو سی سی) پر روک لگانے کے لیے ضوابط میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ نئے ضابطوں کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نگرانی، اسپیم کال کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی، صارفین کے لیے اپیل کا انتظام اور روبو کال پر قابو پانے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔

وزارت مواصلات کے مطابق ٹرائی نے ’ٹیلی مواصلاتی تجارتی مواصلات سے متعلقصارفین کی ترجیحات (تیسری ترمیم) ضوابط، 2026‘ نافذ کر دیے ہیں۔ اس کے تحت ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کو اے آئی اور مشین لرننگ کی مدد سے اسپیم کال کرنے والے نمبروں کی شناخت کرکے انہیں آپس میں شیئر کرنا ہوگا۔ اگر کسی بھیجنے والے سے وابستہ پانچ یا اس سے زیادہ نمبر 10 دن کے اندر مشتبہ پائے جاتے ہیں تو اس کے خلاف جانچ اور مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔

ترمیم شدہ ضوابط میں ’ایپلی کیشن ٹو پرسن‘ (اے ٹو پی) کالز کو بھی ضابطے کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ اب آٹو ڈائلر، روبو کال اور ریکارڈ شدہ آواز کے ذریعے کی جانے والی کالز کے لیے پیشگی اعلان کرنا لازمی ہوگا۔ بغیر پیشگی اطلاع کے کی جانے والی ایسی کال کو غیر مطلوبہ تجارتی مواصلات تصور کیا جائے گا۔

ٹرائی نے اسپیم سے متعلق شکایات پر کارروائی کے طریقہ کار کو بھی مزید سخت کر دیا ہے۔ اب اگر کسی نمبر کے خلاف 10 دن کے اندر تین یا اس سے زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں اور اے آئی نظام بھی اسے مشتبہ قرار دیتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی شروع کی جا سکے گی۔ پہلے اس کے لیے پانچ شکایات ضروری ہوتی تھیں۔

صارفین کو پہلی مرتبہ شکایات کے ازالے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔ شکایت کنندگان ٹرائی ڈی این ڈی ایپ، سروس پرووائیڈر کے پورٹل یا 1909 نمبر کے ذریعے اپیل کر سکیں گے۔نئے ضوابط میں پرانے رضامندی کے خطوط کو بھی تسلیم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، بشرطیکہ انہیں قابل تصدیق طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹر کیا گیا ہو۔

ٹرائی نے ہیڈر اور مواد کے ٹیمپلیٹ کے غلط استعمال پر بھی سختی کی ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ہیڈر یا ٹیمپلیٹ کو چھ گھنٹے کے اندر معطل کرنا ہوگا۔ اگر کسی ٹیلی مارکیٹر کا کردار سامنے آتا ہے تو اس کے تمام ٹیلی مواصلاتی وسائل ایک سال کے لیے بند کیے جا سکتے ہیں اور اسے بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande