
لکھنؤ، 18 ستمبر (ہ س)۔
اترپردیش کے چار میڈیکل کالجوں میں درج فہرست ذات(ایس سی) کے لیے اضافی ریزرویشن کی سہولت پر الہ آباد ہائی کورٹ نے روک لگا دی ہے۔ اس معاملے پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور سابق وزیراعلیٰ مایاوتی نے ریاستی حکومت کی عدالتی پیروی پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش حکومت کو بغیر کسی تاخیر کے مطلوبہ راحت کے لیے فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
مایاوتی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ریاستی حکومت کو عدالت میں پوری مضبوطی کے ساتھ یہ موقف پیش کرنا چاہیے تھا کہ سہارنپور، امبیڈکر نگر، قنوج اور جالون میں درج فہرست ذاتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ’اسپیشل کمپوننٹ پلان‘ کے تحت مختص رقم سے تعمیر کیے گئے میڈیکل کالجوں میں ایس سی طبقے کے لیے اضافی ریزرویشن کا انتظام عام 50 فیصد ریزرویشن سے الگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عدالت کے سامنے یہ مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرتی کہ اس اضافی ریزرویشن کے انتظام سے اسپیشل کمپوننٹ پلان کے فنڈز کے مؤثر استعمال کی بھی عکاسی ہوتی ہے، تو ممکن ہے کہ عدالت اس معاملے پر مثبت غور کرتی اور اس پر روک نہ لگاتی۔مایاوتی نے کہا کہ اب جبکہ ہائی کورٹ نے اس انتظام پر پابندی عائد کر دی ہے اور اس کا اثر میڈیکل داخلوں پر بھی پڑ رہا ہے، ایسے میں اترپردیش حکومت کو مزید تاخیر کیے بغیر مطلوبہ راحت کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan