ہائی کورٹ نے جگتار سنگھ جوہل کو یو اے پی اے کے 7 معاملات میں ضمانت دی
نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے سات معاملات میں خالصتان لبریشن فورس کو مالی اعانت فراہم کرنے کے ملزم جگتار سنگھ جوہل کو ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی میں بنچ نے ضمانت پر
ضمانت


نئی دہلی، 18 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے سات معاملات میں خالصتان لبریشن فورس کو مالی اعانت فراہم کرنے کے ملزم جگتار سنگھ جوہل کو ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی میں بنچ نے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔

برطانیہ کے رہائشی جوہل پر قتل کے کئی معاملے میں ملوث ہونے اور خالصتان لبریشن فورس کو مالی اعانت فراہم کرنے کا الزام ہے۔ جگتار سنگھ جوہل کو پنجاب پولیس نے 2017 میں آرمز ایکٹ اور یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی دفعہ 307 کے تحت گرفتار کیا تھا۔ 2010 میں پنجاب پولیس نے جوہل کے خلاف متعدد قتل اور قتل کی کوششوں میں ملوث ہونے کے الزام میں دس ایف آئی آر درج کی تھیں۔ پنجاب پولیس نے تحقیقات میں پایا تھا کہ ان معاملات میں بین الاقوامی سازش تھی اور اس کے بعد تمام ایف آئی آرکی تحقیقات این آئی اے کو منتقل کر دی گئیں۔

جوہل پر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) جگدیش گگنیجا، آر ایس ایس کے رہنما رویندر گوسین اور پادری سلطان مسیح کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 7 ستمبر 2022 کو پانچ معاملات میں جگتار سنگھ جوہل کی ضمانت کی درخواستیں اور ستمبر 2024 کو ہائی کورٹ کی طرف سے دو معاملات میں ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ اس کے بعد جگتار سنگھ جوہل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ 15 جولائی کو سپریم کورٹ نے تمام ساتوں معاملات کی دہلی ہائی کورٹ میں نئے سرے سے سماعت کا حکم دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande