
نئی دہلی، 17 ستمبر(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے بی جے پی کے رکن اسمبلی انیل شرما کے قریبی ساتھی اور منڈل صدر راجیش چورنگی کے ستیہ نکیتن کے پی جی میں اے بی وی پی کے لیے ووٹ مانگنے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستیہ نکیتن پی جی حادثے میں معصوم بچوں کی موت کے بعد اے بی وی پی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اب اے بی وی پی بی جے پی کی مدد لے رہی ہے۔ تو کیا اے بی وی پی نے اس وقت جھوٹ بولا تھا؟ انہوں نے ڈوسو انتخابات میں حصہ لینے والی تمام طلبہ تنظیموں کو اے بی وی پی کا بائیکاٹ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ستیہ نکیتن پی جی حادثے میں ہونے والی اموات کے بعد اے بی وی پی نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اب بی جے پی کے مقامی منڈل صدر خود ستیہ نکیتن میں اے بی وی پی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ڈوسو انتخابات میں حصہ لینے والی تمام طلبہ تنظیموں، جیسے آئسا، ایس اے پی، این ایس یو آئی اور ایس ایف آئی کو اے بی وی پی کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آج دہلی یونیورسٹی کے جو بھی طلبہ رہنما ہیں، ان سب کے لیے یہ شرم سے ڈوب مرنے کی صورت حال ہے۔ ابھی چند روز قبل ستیہ نکیتن میں پی جی کی ایک عمارت منہدم ہوئی تھی، جس میں سات بے قصور افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہ سب دہلی یونیورسٹی کے ہی طلبہ تھے۔ اس وقت وہاں خوب ڈراما کیا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ اے بی وی پی کا بی جے پی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ تو آر ایس ایس سے وابستہ لوگ ہیں۔ اس کے بعد سوربھ بھاردواج نے ایک ویڈیو دکھاتے ہوئے بتایا کہ اس میں نظر آ رہا ہے کہ اے بی وی پی کی اتنی ہمت ہو گئی ہے کہ وہ اسی ستیہ نکیتن میں بی جے پی کے منڈل صدر یعنی وارڈ انچارج راجیش چورنگی کی قیادت میں ووٹ مانگ رہی ہے۔ اسی ستیہ نکیتن میں ابھی ان بچوں کی روحیں بھی منڈلا رہی ہوں گی اور وہ روحیں خون کے آنسو رو رہی ہوں گی کہ کیا دہلی یونیورسٹی اور طلبہ رہنماوں کا اتنا زوال ہو گیا ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی اور اے بی وی پی کے اندر اتنی ہمت آ گئی ہے کہ اسی وارڈ کا صدر، جو خود پی جی کے کاروبار میں ملوث ہے اور بی جے پی رکن اسمبلی انیل شرما کا خاص آدمی ہے، وہ اسی ستیہ نکیتن میں اے بی وی پی کے پینل کے لیے ووٹ مانگ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، مجھے تو یہ دیکھ کر بہت شرمندگی ہو رہی ہے اور اگر طلبہ رہنماوں کو بھی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھائیے، ورنہ اس سیاست اور اس قیادت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais