
نئی دہلی ،17ستمبر(ہ س )۔
شعبہ عربی،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ سولہ ستمبر دوہزار چھبیس کو شعبہ عربی کے ڈاکٹر عبدالحلیم کتب خانے میں ’ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ان ٹیچنگ ان عربک ٹو نان نیٹیو اسپیکرز‘ کے موضوع پر ایک توسیعی لیکچر کا اہتمام کیا۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد پروفیسر فوزان احمد صدر، شعبہ عربی نے سامعین کا خیر مقدم کیا اور، اردن سے تعلق رکھنے والے مہمان مقرر،تربیت کار اور کاروباری شخصیت کے مالک شہوان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ کا مختصر جائزہ بھی پیش کیا اور یونیورسٹی میں جاری مختلف تعلیمی پروگراموں اور کورسز پر روشنی ڈالی۔
یہ توسیعی خطبہ مالک شہوان نے دیا، جنہوں نے غیر عربی بولنے والوں کو عربی سکھانے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے کردار کے حوالے سے اپنی مہارت اور عملی تجربات سے آگاہ کیا۔ انھوں نے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹولز اور عربی زبان کی تدریس کے عمل کو موثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے فراہم کردہ مواقع اور امکانات پر گفتگو کی۔ مہمان خطیب نے عصرِ حاضر کے آموزگاروں کی بدلتی ہوئی ضروریات کی تکمیل کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو زبان کی تدریس کے مو¿ثر طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اپنے پریزنٹیشن کے دوران، شہوان نے ’یوتھ پروفیشنل عربک‘ متعارف کرایا، جو عربی زبان نہ بولنے والوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ ایک ڈیجیٹل پروگرام ہے۔ انھوں نے وضاحت کی کہ یہ پروگرام زبان کی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک بڑی ٹیم کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق،اس پروگرام میں زبان سکھانے کے جدید طریقہ کار اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو شامل کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس کی سند پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس کا تشخیصی نظام بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ زبان کی مہارت کے امتحانات جیسے آئی ای ایل ٹی ایس اور ٹی او ای ایف ایل میں مستعمل طریقوں سے مماثلت رکھتا ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں، پروفیسر عبدالمجید قاضی نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ خطبہ انتہائی معلوماتی تھا اور اس نے عربی زبان کی تعلیم میں ڈیجیٹل تبدیلی سے وابستہ امکانات اور چیلنجوں کے بارے میں بیش قیمت بصیرت فراہم کی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے شرکا کو تدریس زبان کے جدید تکنیکی طریقوں کے بارے میں مفید اور کارآمد معلومات حاصل ہوئیں۔
پروگرام کے کوآرڈی نیٹر پروفیسر نسیم اختر تھے۔ اس توسیعی خطبے میں شعبہ عربی کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais