میرے عملہ پر پولیس اسٹیشن میں نقاب پوشوں کا حملہ ہوا : کے ٹی آر
حیدرآباد، 16 ستمبر (ہ س)۔ بی آر ایس کے قائم مقام صدر کے ٹی آر نے حیدرآباد کے سیف آباد پولیس اسٹیشن میں اپنے پی آراو اور پی اے پر ہوئے حملہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔ کے ٹی آر نے سوال کیا
میرے عملہ پر پولیس اسٹیشن میں نقاب پوشوں کا حملہ : کے ٹی آر


حیدرآباد، 16 ستمبر (ہ س)۔ بی آر ایس کے قائم مقام صدر کے ٹی آر نے حیدرآباد کے سیف آباد پولیس اسٹیشن میں اپنے پی آراو اور پی اے پر ہوئے حملہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور پولیس انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں ۔ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں نقاب پوش افراد کیسے داخل ہوئے اور حملہ کرنے کی ہمت کس طرح کی ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ تفتیش کے نام پر صبح بلائے گئے ان کے پی آر او اور پی اے کو رات تک پولیس اسٹیشن میں بٹھایا گیا اور شام کے وقت تقریباً 15 نقاب پوش افراد نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔کے ٹی آرنے اس بات کا مطالبہ کیاکہ پولیس اس بات کا انکشاف کرے کہ پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے والے وہ نقاب پوش کون تھے ۔ کیاوہ کانگریس کے غنڈے تھے یا پھر سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے تھے ۔بی آرایس کے سینئرقائدین اور وکلاء نے پانچ گھنٹوں تک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف کیس درج کرنے سے صاف انکارکردیا۔

انہوں نے الزام عائد کیاکہ ریاستی پولیس اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے اور حکمراں جماعت کو بچانے کا کام کر رہی ہے ۔ اس لئے بی آر ایس اس معاملہ میں انصاف کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوسری جانب خیریت آباد زون کی ڈی سی پی شلپاولی نے حملہ کے ان تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے ۔پو لیس کا کہنا ہے کہ گنیش منڈپ کے لئے ڈی جی کی اجازت لینے آئے چند مقامی نوجوانوں اور کے ٹی آر کے عملہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی،تاہم سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق پولیس اسٹیشن کے اندر کوئی فزیکل حملہ یاتشددنہیں ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande