عراق کو سعودی عرب خلیجی ممالک جیسے دوستوں کی ضرورت ہے ایران کی نہیں: شیعہ مولانا حسن علی راجانی
دہلی 16 ستمبر(ہ س )۔ شیعہ مولانا حسن علی راجانی کا عراق کے بیان کی مکمل حمایت میں اپنا اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ آج عراق کی طرف سے ایک نہایت درست اور سچائی پر مبنی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ جس میں عراق نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر عراق ایران کے ساتھ
عراق کو سعودی عرب خلیجی ممالک جیسے دوستوں کی ضرورت ہے ایران کی نہیں: شیعہ مولانا حسن علی راجانی


دہلی 16 ستمبر(ہ س )۔

شیعہ مولانا حسن علی راجانی کا عراق کے بیان کی مکمل حمایت میں اپنا اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ آج عراق کی طرف سے ایک نہایت درست اور سچائی پر مبنی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ جس میں عراق نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر عراق ایران کے ساتھ رہا تو اس کی حالت فلسطین سے بھی بدتر ہو جائے گی اور اگر عراق سعودی عرب کے ساتھ رہا تو دبئی، قطر جیسے ترقی یافتہ ممالک جیسا ہو جائے گا۔جس بیان کو لیکر مولانا راجانی نے کہا کہ میں عراق کے اس بیان کی مکمل حمایت اور تائید کرتا ہوں۔چونکہ میری نظر میں اس کی یہ تین بڑی وجوہات ہیں:

1۔ ایران کے ساتھ صرف جنگ اور تباہی: دیکھیں پچھلے چالیس سالوں میں ایران نے عراق، شام، ،افریقہ اور یمن میں صرف ملیشیا اور جنگ کو فروغ دیا ہے جس کے نتیجہ میں چار کروڑ سے زیادہ بے گناہ مسلمان مارے گئے۔ اور اس کے علاوہ ایران کے ساتھ رہ کر عراق کو نہ بجلی ملی، نہ پانی، صرف میزائل اور پابندیاں۔ چونکہ آج ہم سب فلسطین کا درد دیکھ رہے ہیں،توعراق بھی ایران کے اسی راستے پر نہیں چلنا چاہتا۔2۔ سعودی عرب کے ساتھ ترقی اور امن ہے: جو آج سعودی عرب ویڑن 2030 کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے امن اور ترقی کا ایک نیا ماڈل پیش کر رہا ہے۔ اور دبئی، قطر، کویت اور بحرین جیسے ممالک نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر اپنے ملکوں کو جنتوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ عراق میں تیل، ہنر اور تعلیم و تربیت ہے- اگر سعودی کی ٹیکنالوجی اور پیسہ عراق میں آتا ہے تو عراق پانچ سالوں میں دبئی کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

شیعہ سنی اتحاد کا پیغام: ایک شیعہ عالم کی حیثیت سے میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارا حرم نجف اور کربلا عراق میں ہے لیکن ہمارے دل مکہ اور مدینہ کے ساتھ سعودی عرب میں بھی دھڑکتے ہیں۔ ہم ایران کے سیاسی ایجنڈے کے غلام نہیں ہیں۔ حقیقی شیعہ وہ ہے جو امن اور ترقی کا خواہاں ہو۔ عراق کا سعودی عرب جانا شیعہ سنی اتحاد کی سب سے بڑی فتح ہو گی۔اس لیے میں ہندوستانی حکومت اور دنیا بھر کے امن پسند لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عراق کے فیصلے کی حمایت کریں۔عراق کو سعودی عرب جیسے دوست کی ضرورت ہے ایران کی نہیں جیسے ضمیر فروش کی نہیں ۔ ایران سے دوری کوئی سیاسی فیصلہ نہیں، یہ عراقی قوم کے دل کی آواز ہے۔تیسری بات: شیعہ ہونے کا مطلب ایران کا غلام ہونا نہیں۔میں شیعہ ہوں۔ ہمارا قبلہ نجف اور کربلا میں ہے، لیکن ہمارا دل مکہ اور مدینہ میں بھی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande